کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: سنن موکدہ کی بارہ رکعتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1140
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو يَحْيَى الرَّازِيُّ ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ثَابَرَ عَلَى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ السُّنَّةِ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ ، أَرْبَعٍ قَبْلَ الظُّهْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص روزانہ پابندی کے ساتھ بارہ رکعات سنن موکدہ پڑھا کرے ، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا : چار رکعتیں ظہر سے پہلے ، اور دو رکعت اس کے بعد ، دو رکعت مغرب کے بعد ، دو رکعت عشاء کے بعد ، دو رکعت فجر سے پہلے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: فرض نماز سے پہلے یا اس کے بعد جو سنتیں پڑھی جاتی ہیں، ان کی دو قسمیں ہیں: ایک قسم وہ ہے جس پر نبی اکرم ﷺ نے مداومت فرمائی ہے، بعض روایتوں میں ان کی تعداد دس بیان کی گئی ہے، اور بعض میں بارہ، اور بعض میں چودہ، انہیں سنن مؤکدہ، یا سنن رواتب کہا جاتا ہے، دوسری قسم وہ ہے جس پر آپ نے مداومت نہیں کی ہے، انہیں نوافل یا غیر موکدہ کہا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ سے مزید تقرب کے لیے نوافل یا سنن غیر موکدہ کی بھی بڑی اہمیت ہے، بہتر یہ کہ یہ سنتیں گھر میں ادا کی جائیں کیونکہ نبی اکرم ﷺ کا یہی معمول تھا، ویسے مسجد میں بھی ادا کرنا جائز اور درست ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1140
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 190 ( 414 ) ، سنن النسائی/قیام اللیل 57 ( 1795 ) ، ( تحفة الأشراف : 17393 ) ( صحیح لغیرہ ) ( تراجع الألبانی : رقم : 621 ) »
حدیث نمبر: 1141
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَجْدَةً ، بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے رات اور دن میں بارہ رکعتیں ( سنن موکدہ ) پڑھیں ۱؎ ، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا “ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ وہی ۱۲ رکعتیں ہیں جن کا ذکر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی اوپر کی حدیث میں ہوا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1141
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 190 ( 415 ) ، سنن النسائی/قیام اللیل 57 ( 1803 ، 1804 ) ، ( تحفةالأشراف : 15862 ) ، وقدأخرجہ : صحیح مسلم/المسافرین 15 ( 728 ) ، سنن ابی داود/الصلاة 290 ( 1250 ) ، مسند احمد ( 6/327 ، 426 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1142
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ ، رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ أَظُنُّهُ قَالَ قَبْلَ الْعَصْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ، أَظُنُّهُ قَالَ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ایک دن میں بارہ رکعتیں ( سنن موکدہ ) پڑھیں ، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا : دو رکعت فجر سے پہلے ، دو رکعت ظہر سے پہلے ، اور دو رکعت اس کے بعد ، غالباً آپ نے یہ بھی فرمایا : دو رکعت عصر سے پہلے ، اور دو رکعت مغرب کے بعد ، اور یہ بھی فرمایا : دو رکعت عشاء کے بعد “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1142
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف والحديث صحيح بلفظ وأربع ركعات قبل الظهر , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, نسائي (1812), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 418
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12747 ، ومصباح الزجاجة : 407 ) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/قیام اللیل 57 ( 1812 ) مختصرا علی قولہ ''من صلی فی یوم ۔۔۔'' ( ضعیف ) » ( اس کی سند محمد بن سلیمان بن اصبہانی ضعیف ہیں ، لیکن «واربع رکعات قبل الظہر» ”ظہر سے پہلے چار رکعت“ کے لفظ سے یہ حدیث صحیح ہے ملاحظہ ہو : 2347 )