کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: دوران جمعہ لوگوں کی گردنیں پھلانگنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 1115
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَجَعَلَ يَتَخَطَّى النَّاسَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ ، وَآنَيْتَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانے لگا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیٹھ جاؤ ، تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ، اور آنے میں تاخیر بھی کی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بعض لوگ جمعہ کے دن دیر سے آتے ہیں اور لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جاتے ہیں، یہ ممنوع بلکہ حرام ہے، علامہ ابن القیم نے اس کو کبیرہ گناہوں میں لکھا ہے، اس لئے آدمی کو چاہئے کہ جہاں جگہ پائے وہیں بیٹھ جائے، جب دیر میں آیا تو پیچھے ہی بیٹھے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1115
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2226 ، ومصباح الزجاجة : 396 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1116
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ اتُّخِذَ جِسْرًا إِلَى جَهَنَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگے گا وہ جہنم کا پل بنایا جائے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1116
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (513), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 417
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الجمعة 17 ( 513 ) ، ( تحفة الأشراف : 11292 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/438 ) ( ضعیف ) » ( اس حدیث کی سند میں رشدین بن سعد ، زبان بن فائد اور سہل بن معاذ ضعیف ہیں )