کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: جمعہ کے دن زیب و زینت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1095
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ : " مَا عَلَى أَحَدِكُمْ لَوِ اشْتَرَى ثَوْبَيْنِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ سِوَى ثَوْبِ مِهْنَتِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن منبر پہ فرماتے ہوئے سنا : ” کیا اچھا ہوتا کہ تم میں سے ہر شخص جمعہ کے لیے اپنے عام استعمال کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے خرید لے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: عام کپڑے اکثر میلے کچیلے یا کم قیمت کے ہوتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ جمعہ کا احترام اور اس کی عزت و توقیر کرے، اور اپنی حیثیت کے مطابق عمدہ اور صاف ستھرے کپڑے پہنے، جیسے کوئی حاکم اور امیر کے دربار میں جاتے وقت اچھا لباس پہننے اور زیب و زینت کا خیال رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1095
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الصلاة 219 ( 1078 ) ، ( تحفة الأشراف : 5334 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1095M
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَيْخٌ لَنَا ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا ، اور پھر انہوں نے یہی حدیث ذکر کی ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1095M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث t
حدیث نمبر: 1096
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَرَأَى عَلَيْهِمْ ثِيَابَ النِّمَارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدَ سَعَةً أَنْ يَتَّخِذَ ثَوْبَيْنِ لِجُمُعَتِهِ سِوَى ثَوْبَيْ مِهْنَتِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن خطبہ دیا ، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دھاری دار چادریں پہنے دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا مشکل ہے کہ تم میں سے جو صاحب وسعت ہو وہ جمعہ کے لیے اپنے عام کپڑے کے علاوہ دوسرے دو کپڑے بنا لے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1096
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 16896 ومصباح الزجاجة : 388 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1097
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، وَحَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ غُسْلَهُ ، وَتَطَهَّرَ فَأَحْسَنَ طُهُورَهُ ، وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ ، وَمَسَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنْ طِيبِ أَهْلِهِ ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ وَلَمْ يَلْغُ ، وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کیا ، اچھی طرح وضو کیا ، سب سے اچھا کپڑا پہنا ، اور اس کے گھر والوں کو اللہ نے جو خوشبو میسر کی اسے لگایا ، پھر جمعہ کے لیے آیا اور کوئی لغو اور بیکار کام نہیں کیا ، اور دو مل کر بیٹھنے والوں کو الگ الگ کر کے بیچ میں نہیں گھسا ۱؎ تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے نہیں گیا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1097
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11959 ، ومصباح الزجاجة : 389 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/177 ، 180 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1098
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا يَوْمُ عِيدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ ، فَمَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ ، وَإِنْ كَانَ طِيبٌ فَلْيَمَسَّ مِنْهُ ، وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ عید کا دن ہے ، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اسے عید کا دن قرار دیا ہے ، لہٰذا جو کوئی جمعہ کے لیے آئے تو غسل کر کے آئے ، اور اگر خوشبو میسر ہو تو لگا لے ، اور تم لوگ اپنے اوپر مسواک کو لازم کر لو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ غسل نماز جمعہ کے لئے مسنون ہے نہ کہ جمعہ کے دن کے لئے، اور بعضوں نے کہا: جمعہ کے دن کے لئے مسنون ہے، پس جس پر جمعہ فرض نہ ہو، جیسے عورت، مریض، مسافر یا نابالغ اور وہ جمعہ کی نماز کے لئے آنے کا ارادہ بھی نہ رکھتا ہو تو اس کو بھی غسل کرنا مستحب ہو گا، اور پہلے قول کے لحاظ سے جن پر جمعہ فرض نہیں ہے ان پر غسل نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1098
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, سنده ضعيف, صالح بن أبي الأخضر لينه الجمهور و علي بن غراب والزهري مدلسان و عنعنا إن صح السند إلي الزهري, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 535
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5870 ، ومصباح الزجاجة : 390 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الطہارة 32 ( 113 ) ( حسن ) » ( شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے ، ورنہ اس کی سند میں علی بن غراب اور صالح بن ابی الأخضر ضعیف ہیں ، منذری نے اس کو حسن کہا ہے ، الترغیب و الترہیب 1/498 ، نیز ملاحظہ ہو : مصباح الزجاجة : 394 بتحقیق الشہری )