کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: جب مسافر کسی مقام پر ٹھہرے تو کتنے دنوں تک قصر کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1073
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ السَّائِب بْنَ يَزِيدَ مَاذَا سَمِعْتَ فِي سُكْنَى مَكَّةَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثًا لِلْمُهَاجِرِ بَعْدَ الصَّدَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن حمید زہری کہتے ہیں کہ` میں نے سائب بن یزید سے پوچھا کہ آپ نے مکہ کی سکونت کے متعلق کیا سنا ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہاجرین کو منٰی سے لوٹنے کے بعد تین دن تک مکہ میں رہنے کی اجازت ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مہاجر وہ لوگ تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی، آپ ﷺ نے مہاجرین کو تین دن سے زیادہ مکہ میں رہنے کی اجازت نہ دی، اس حدیث کا تعلق ترجمہ باب سے معلوم نہیں ہوتا مگر یوں کہہ سکتے ہیں کہ جب مہاجرین کو جو کہ مکہ میں مسافر تھے نبی اکرم ﷺ نے تین دن رہنے کی اجازت دی، تو معلوم ہوا کہ تین دن کی اقامت سے سفر کا حکم باطل نہیں ہوتا، پس اگر کوئی مسافر کسی شہر میں تین دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو قصر کرے، اور اس مسئلہ میں علماء کا بہت اختلاف ہے لیکن اہل حدیث نے اس کو اختیار کیا ہے کہ اگر تردد و شک کے ساتھ مسافر کو کہیں ٹھہرنے کا اتفاق ہو تو بیس دن تک قصر کرتا رہے، اس کے بعد پوری نماز ادا کرے، کیونکہ جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے تبوک میں بیس راتوں تک کی اقامت میں قصر کا حکم دیا، اس واسطے کہ قصر حالت سفر میں مشروع تھا، اور جب اقامت کی تو سفر نہ رہا، اور اگر یقین کے ساتھ مسافر کہیں ٹھہرنے کا ارادہ کرے، تو اگر چار دن یا زیادہ کی اقامت کی نیت کرے، تو چار دن کے بعد نماز پوری پڑھے، اور جو چار دن سے کم رہنے کی نیت کرے تو قصر کرے، یہ حنبلی مذہب کا مشہور مسئلہ ہے، اور دلیل اس کی یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ ذوالحجہ کی چوتھی تاریخ کی صبح کو مکہ میں تشریف لائے، اور ساتویں دن تک قیام فرمایا، اور آٹھویں تاریخ کی صبح کو نماز فجر پڑھ کر منیٰ تشریف لے گئے، اور چار دنوں میں مکہ میں قصر کرتے رہے، جبکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مکہ میں انیس دن تک نماز قصر ادا کی (صحیح البخاری)، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقامت کی حد چار دن نہیں ہے، سنن ابی داود (۱۲۳۵) میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تبوک میں بیس دن تک اقامت رہی، اور قصر پڑھتے رہے، مختلف احادیث میں مختلف مدتوں کے ذکر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کوئی تعارض کی بات ہے، رواۃ نے اپنی اپنی معلومات کے مطابق بیان کیا، راجح قول یہی ہے کہ مسافر جب تک اقامت کی نیت نہ کر ے نماز کو قصر کرے اور جمع بھی، جب تک کہ اقامت کی نیت نہ کر ے اور سفر کو ختم نہ کر دے، شیخ الإسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ مسافر کے لیے قصر و افطار اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اقامت اور سکونت نہ اختیار کر لے، اور چند دن کی اقامت کی نیت سے مقیم اور مسافر کے درمیان فرق و تمیز شرع اور عرف میں غیر معروف چیز ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1073
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج حدیث « صحیح البخاری/مناقب الانصار 47 ( 3933 ) ، صحیح مسلم/الحج81 ( 1352 ) ، سنن ابی داود/الحج92 ( 2022 ) ، سنن الترمذی/الحج 103 ( 949 ) ، سنن النسائی/تقصیرالصلاة 4 ( 1455 ، 1456 ) ، ( تحفة الأشراف : 11008 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/339 ، 5/52 ) ، سنن الدارمی/الصلاة 180 ( 1553 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1074
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فِي أُنَاسٍ مَعِي ، قَالَ : " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ شَهْرِ ذِي الْحِجَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطاء کہتے ہیں کہ` جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے مجھ سے میرے ساتھ کئی لوگوں کی موجودگی میں حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ چار ذی الحجہ کی صبح تشریف لائے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1074
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الشرکة 15 ( 2505 ) التمنی 3 ( 7229 ) ، سنن النسائی/الحج 108 ( 2875 ) ، ( تحفة الأشراف : 2448 ) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الحج 18 ( 1216 ) ، سنن ابی داود/الحج 23 ( 1788 ) ، مسند احمد ( 3/305 ، 317 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1075
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ، فَنَحْنُ إِذَا أَقَمْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ، فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں انیس ( ۱۹ ) دن رہے ، اور دو دو رکعت پڑھتے رہے ، لہٰذا ہم بھی جب انیس ( ۱۹ ) دن قیام کرتے ہیں تو دو دو رکعت پڑھتے ہیں ، اور جب اس سے زیادہ قیام کرتے ہیں تو چار رکعت پڑھتے ہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مذہب انیس دن کی اقامت تک قصر کا تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1075
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث « صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 1 ( 1080 ) ، المغازي ( 4298 ) ، سنن الترمذی/الصلاة 275 ( 549 ) ، سنن ابی داود/الصلاة ( 1230 ) ، ( تحفة الأشراف : 6134 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1076
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقَامَ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً يَقْصُرُ الصَّلَاةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال مکہ میں پندرہ دن قیام کیا ، اور نماز قصر کرتے رہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1076
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الصلاة 279 ( 1231 ) ، ( تحفة الأشراف : 5849 ) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/تقصیر الصلاة 4 ( 1454 ) ( ضعیف ) » ( اس حدیث کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں ، اور عنعنہ سے روایت کی ہے ، ملاحظہ ہو : الإرواء : 3/26 ، 27 )
حدیث نمبر: 1077
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ، حَتَّى رَجَعْنَا " ، قُلْتُ : كَمْ أَقَامَ بِمَكَّةَ ، قَالَ : عَشْرًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے اور واپسی تک دو دو رکعت نماز پڑھتے رہے ۔ یحییٰ کہتے ہیں : میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کتنے دنوں تک مکہ میں رہے ؟ کہا : دس دن تک ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1077
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج حدیث « صحیح البخاری/تقصیرالصلاة 1 ( 1081 ) ، المغازي 52 ( 4297 ) ، صحیح مسلم/المسافرین 1 ( 693 ) ، سنن ابی داود/الصلاة 279 ( 1233 ) ، سنن الترمذی/الصلاة 275 ( 548 ) ، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ( 1439 ) ، ( تحفة الأشراف : 1652 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/187 ، 190 ) ( صحیح ) »