حدیث نمبر: 1069
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، وَطَاوُسٍ ، أَخْبَرُوهُ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُعْجِلَهُ شَيْءٌ ، وَلَا يَطْلُبَهُ عَدُوُّ ، وَلَا يَخَافَ شَيْئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کی نماز کو سفر میں جمع کرتے تھے ، نہ تو آپ کو کسی چیز کی عجلت ہوتی ، نہ کوئی دشمن آپ کا پیچھا کئے ہوئے ہوتا ، اور نہ آپ کو کسی چیز کا خوف ہی ہوتا ۔
حدیث نمبر: 1070
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فِي السَّفَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر ، اور مغرب و عشاء کی نماز کو غزوہ تبوک کے سفر میں جمع فرمایا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: «جمع بین الصلاتین» کی دو قسمیں ہیں: ایک صوری، دوسری حقیقی، پہلی نماز کو آخر وقت میں اور دوسری نماز کو اوّل وقت میں پڑھنے کو جمع صوری کہتے ہیں، اور ایک نماز کو دوسری نماز کے وقت میں جمع کر کے پڑھنے کو جمع حقیقی کہتے ہیں، اس کی دو صورتیں ہیں ایک جمع تقدیم، دوسری جمع تاخیر، جمع تقدیم یہ ہے کہ ظہر کے وقت میں عصر اور مغرب کے وقت میں عشاء پڑھی جائے، اور جمع تاخیر یہ ہے کہ عصر کے وقت میں ظہر اور عشاء کے وقت میں مغرب پڑھی جائے، یہ دونوں جمع رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جمع سے مراد جمع صوری ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ جمع سے مراد جمع حقیقی ہے کیوں کہ جمع کی مشروعیت آسانی کے لیے ہوئی ہے اور جمع صوری کی صورت میں تو اور زیادہ پریشانی اور زحمت ہے کیوں کہ تعیین کے ساتھ اول اور آخر وقت کا معلوم کرنا بہت دشوار امر ہے، اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ «جمع بین الصلاتین» کی رخصت عرفہ اور مزدلفہ کے ساتھ خاص نہیں کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے تبوک میں بھی دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کیا ہے، واضح رہے کہ «جمع بین الصلاتین» کے لئے سفر کا تسلسل شرط نہیں، سفر کے دوران قیام کی حالت میں بھی «جمع بین الصلاتین» جائز ہے۔