کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: قرآن کے سجدوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1052
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ ، اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي ، يَقُولُ : يَا وَيْلَهُ أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ ، فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ ، فَأَبَيْتُ ، فَلِي النَّارُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب انسان آیت سجدہ تلاوت کرتا اور سجدہ کرتا ہے ، تو شیطان روتا ہوا الگ ہو جاتا ہے ، اور کہتا ہے : ہائے خرابی ! ابن آدم کو سجدہ کا حکم ہوا ، اس نے سجدہ کیا ، اب اس کے لیے جنت ہے ، اور مجھ کو سجدہ کا حکم ہوا ، میں نے انکار کیا ، میرے لیے جہنم ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1052
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الإیمان 35 ( 81 )، ( تحفة الأشراف: 12524 )، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 3/443 ) ( صحیح )»
حدیث نمبر: 1053
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ ، قَالَ لِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، يَا حَسَنُ ، أَخْبَرَنِي جَدُّكَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أُصَلِّي إِلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ ، فَقَرَأْتُ : السَّجْدَةَ ، فَسَجَدْتُ ، فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي ، فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ : اللَّهُمَّ احْطُطْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا ، وَاكْتُبْ لِي بِهَا أَجْرًا ، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ مِثْلَ الَّذِي أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ عَنْ قَوْلِ الشَّجَرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اس دوران ایک شخص آیا ۱؎ اور اس نے عرض کیا کہ کل رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے جیسے سونے والا دیکھتا ہے ، گویا میں ایک درخت کی جڑ میں نماز پڑھ رہا ہوں ، میں نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا ، تو درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا ، اور میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا «اللهم احطط عني بها وزرا واكتب لي بها أجرا واجعلها لي عندك ذخرا» ” اے اللہ ! اس سجدہ کی وجہ سے میرے گناہ ختم کر دے ، اور میرے لیے اجر لکھ دے ، اور اس اجر کو میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا دے “ ۲؎ ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا ، تو میں نے سنا آپ سجدہ میں وہی دعا پڑھ رہے تھے ، جو اس آدمی نے درخت سے سن کر بیان کی تھی ۔
وضاحت:
۱؎: یہاں پر شخص سے مراد ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہیں جیسا کہ دوسری روایت میں تصریح ہے۔ ۲؎: سجدہ تلاوت میں یہ دعا پڑھے، یا «سبحان ربي الأعلى» کہے، یا وہ دعا جو آگے آ رہی ہے، بعض نے کہا کہ یہ دعا پڑھے: «سبحان ربنا إن كان وعد ربنا لمفعولا» ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1053
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الجمعة 55 ( 579 )، الدعوات 33 ( 3424 )، ( تحفة الأشراف: 5867 ) ( حسن )»
حدیث نمبر: 1054
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : إِذَا سَجَدَ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، أَنْتَ رَبِّي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي شَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو فرماتے : «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت أنت ربي سجد وجهي للذي شق سمعه وبصره تبارك الله أحسن الخالقين» ” اے اللہ ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا ، اور تجھ ہی پر ایمان لایا ، اور تیرا ہی فرماں بردار ہوا تو میرا رب ہے ، اور میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کے لیے جس نے کان اور آنکھ کو بنایا ، اللہ تعالیٰ کتنا بابرکت ہے جو سب سے اچھا بنانے والا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1054
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/المسافرین 26 ( 771 )، سنن ابی داود/الصلاة121 ( 760 )، سنن الترمذی/الدعوات 32 ( 3421، 3422 )، سنن النسائی/الافتتاح 17 ( 898 )، ( تحفة الأشراف: 10228 )، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 1/95، 102 ) ( صحیح )»