حدیث نمبر: 1008
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَوَافِ الْبَيْتِ أَتَى مَقَامَ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا مَقَامُ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ الَّذِي قَالَ اللَّهُ : وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 ، قَالَ الْوَلِيدُ : فَقُلْتُ لِمَالِكٍ : أَهَكَذَا قَرَأَ : وَاتَّخِذُوا سورة البقرة آية 125 ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ ( خانہ کعبہ ) کے طواف سے فارغ ہو گئے تو مقام ابراہیم پر آئے ، عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! یہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ، یعنی : ( مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ ) ۔ ولید کہتے ہیں کہ میں نے مالک سے کہا : کیا یہ انہوں نے اسی طرح ( امر کے صیغہ کے ساتھ ) «واتخذوا» ( خاء کے زیر ” کسرے “ کے ساتھ ) پڑھا ؟ تو انہوں نے کہا : جی ہاں ۔
حدیث نمبر: 1009
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اتَّخَذْتَ مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ، فَنَزَلَتْ : " وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر آپ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیں ( تو بہتر ہو ) ؟ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ” اور تم مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ “ ( سورة البقرة : 125 ) ۔
حدیث نمبر: 1010
حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا ، وَصُرِفَتِ الْقِبْلَةُ إِلَى الْكَعْبَةِ بَعْدَ دُخُولِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ بِشَهْرَيْنِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ أَكْثَرَ تَقَلُّبَ وَجْهِهِ فِي السَّمَاءِ ، وَعَلِمَ اللَّهُ مِنْ قَلْبِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَهْوَى الْكَعْبَةَ ، فَصَعِدَ جِبْرِيلُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ وَهُوَ يَصْعَدُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، يَنْظُرُ مَا يَأْتِيهِ بِهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ سورة البقرة آية 144 ، فَأَتَانَا آتٍ فَقَالَ : إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ صُرِفَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ ، وَقَدْ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسٍ وَنَحْنُ رُكُوعٌ ، فَتَحَوَّلْنَا ، فَبَنَيْنَا عَلَى مَا مَضَى مِنْ صَلَاتِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا جِبْرِيلُ ، كَيْفَ حَالُنَا فِي صَلَاتِنَا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ؟ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ مہینے تک بیت المقدس کی جانب منہ کر کے نماز ادا کی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کے دو مہینہ بعد قبلہ خانہ کعبہ کی جانب تبدیل کر دیا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت المقدس کی جانب نماز پڑھتے تو اکثر اپنا چہرہ آسمان کی جانب اٹھاتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے دل کا حال جان لیا کہ آپ خانہ کعبہ کی جانب رخ کرنا پسند فرماتے ہیں ، ایک بار جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے ، آپ ان کی طرف نگاہ لگائے رہے ، وہ آسمان و زمین کے درمیان اوپر چڑھ رہے تھے ، آپ انتظار میں تھے کہ جبرائیل علیہ السلام کیا حکم لاتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی : «قد نرى تقلب وجهك في السماء» ( سورۃ البقرہ : ۱۴۴ ) ، ہمارے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا : قبلہ کعبہ کی طرف بدل دیا گیا ، ہم دو رکعتیں بیت المقدس کی جانب پڑھ چکے تھے ، اور رکوع میں تھے ، ہم اسی حالت میں خانہ کعبہ کی جانب پھر گئے ، ہم نے اپنی پچھلی نماز پر بنا کیا اور دو رکعتیں اور پڑھیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جبرائیل ہماری ان نماز کا کیا حال ہو گا جو ہم نے بیت المقدس کی جانب پڑھی ہیں “ ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی : «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ” اللہ تعالیٰ تمہاری نماز کو ضائع کرنے والا نہیں “ ( سورة البقرة : 143 ) ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: آپ ﷺ قبلہ کو کعبہ کی طرف ہونا پسند کرتے تھے، اس خیال سے کہ عربوں کی عبادت گاہ اور مرکز وہی تھا، اور اس میں اس بات کی امید اور توقع تھی کہ عرب جلد اسلام کو قبول کر لیں گے، اور یہودی رسول اکرم ﷺ کے سخت دشمن تھے، ان کا قبلہ بیت المقدس تھا، اس وجہ سے بھی آپ کو ان کی موافقت پسند نہیں تھی، اور یہ آپ کا کمال ادب تھا کہ اللہ تعالیٰ سے قبلے کے بدلنے کا سوال نہیں کیا، بلکہ دل ہی میں یہ آرزو لئے رہے، اس خیال سے کہ اللہ رب العزت دلوں کی بات بھی خوب جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 1011
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مشرق ( پورب ) اور مغرب ( پچھم ) کے درمیان جو ہے وہ سب قبلہ ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حکم مدینہ والوں کے لئے ہے کیونکہ ان کا قبلہ جنوب کی طرف ہے، اور مشرق اور مغرب کے وہ درمیان ہے۔