کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: عورتوں کی صف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1000
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وعَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا ، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا ، وَخَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا ، وَشَرُّهَا آخِرُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتوں کی سب سے بہتر صف ان کی پچھلی صف ہے ، اور سب سے خراب صف ان کی اگلی صف ہے ۱؎ ، مردوں کی سب سے اچھی صف ان کی اگلی صف ہے ، اور سب سے بری صف ان کی پچھلی صف ہے “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اگلی صف سے مراد امام کے پیچھے والی صف ہے، سب سے اچھی صف پہلی صف ہے کا مطلب یہ ہے کہ دوسری صفوں کی بہ نسبت اس میں خیر و بھلائی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ جو صف امام سے قریب ہوتی ہے تو جو لوگ اس میں ہوتے ہیں وہ امام سے براہ راست مستفید ہوتے ہیں، تلاوت قرآن اور تکبیرات سنتے ہیں، اور عورتوں سے دور رہنے کی وجہ سے نماز میں خلل انداز ہونے والے وسوسوں اور برے خیالات سے عام طور سے محفوظ رہتے ہیں، اور سب سے بری صف ان مردوں کی آخری صف ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خیر و بھلائی دوسری صفوں کی بہ نسبت کم ہے، یہ مطلب نہیں کہ اس میں جو لوگ ہوں گے وہ برے ہوں گے۔ ۲؎: عورتوں کی آخری صف اس لئے بہتر ہے کہ وہ مردوں سے دور ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ فتنوں سے محفوظ رہتی ہیں، اور عورتوں کی اگلی صف سب سے خراب صف اس لئے ہے کہ وہ مردوں سے قریب ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ شیطان کے وسوسوں اور فتنوں سے محفوظ نہیں رہ پاتی ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1000
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «حدیث العلاء عن أبیہ تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفة الأشراف: 14083 )، وحدیث سہیل عن أبیہ قد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 28 ( 441 )، سنن الترمذی/الصلاة 52 ( 224 )، ( تحفة الأشراف: 12701 )، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 98 ( 678 )، سنن النسائی/الإمامة 32 ( 821 )، مسند احمد ( 2/247، 336، 340، 366، 485 )، سنن الدارمی/الصلاة 52 ( 1304 ) ( صحیح )»
حدیث نمبر: 1001
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ مُقَدَّمُهَا ، وَشَرُّهَا مُؤَخَّرُهَا ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ مُؤَخَّرُهَا ، وَشَرُّهَا مُقَدَّمُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مردوں کی سب سے اچھی صف ان کی اگلی صف ہے ، اور سب سے بری صف ان کی پچھلی صف ہے ، عورتوں کی سب سے اچھی صف ان کی پچھلی صف ہے ، اور سب سے بری صف ان کی اگلی صف ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1001
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفة الأشراف: 2371، ومصباح الزجاجة: 359 )، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 3/293، 331، 387 ) ( حسن صحیح )» ( یہ سند حسن ہے اور دوسرے شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملا حظہ ہو: مصباح الزجاجة: 362، بتحقیق الشہری، وصحیح ابی داود: 681 )