حدیث نمبر: 936
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، قَالَ : خَرَجْتُ فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اسْتَفْتَحْتُ ، فَقَالَ أَبِي : مَنْ هَذَا ؟ ، قَالَ : أَبُو الْمَلِيحِ ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَصَابَتْنَا سَمَاءٌ لَمْ تَبُلَّ أَسَافِلَ نِعَالِنَا ، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوملیح کہتے ہیں کہ` میں بارش والی رات میں ( گھر سے ) نکلا ، جب واپس آیا تو میں نے دروازہ کھلوایا ، میرے والد ( اسامہ بن عمیر ھذلی رضی اللہ عنہ ) نے اندر سے پوچھا : کون ؟ میں نے جواب دیا : ابوالملیح ، انہوں نے کہا : ہم نے دیکھا کہ ہم حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ، اور بارش ہونے لگی اور ہمارے جوتوں کے تلے بھی نہ بھیگے ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا : «صلوا في رحالكم» ” اپنے اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: نبی اکرم ﷺ نے جماعت میں حاضر ہونا معاف کر دیا تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔
حدیث نمبر: 937
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَال : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي مُنَادِيهِ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ ، أَوِ اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ ذَاتِ الرِّيحِ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` بارش والی رات ہوتی یا ہوا والی ٹھنڈی رات ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی اعلان کرتا : «صلوا في رحالكم» ” اپنے اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو “ ۔
حدیث نمبر: 938
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، يُحَدِّثُ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ مَطَيرةٍ : " صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن جب کہ بارش ہو رہی تھی فرمایا : ” اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو “ ۔
حدیث نمبر: 939
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ " أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ أَنْ يُؤَذِّنَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَطِيرٌ ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : نَادِ فِي النَّاسِ فَلْيُصَلُّوا فِي بُيُوتِهِمْ ، فَقَالَ لَهُ النَّاسُ : مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتَ ؟ قَالَ : قَدْ فَعَلَ هَذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي ، تَأْمُرُنِي أَنْ أُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ بُيُوتِهِمْ فَيَأْتُونِي يَدُوسُونَ الطِّينَ إِلَى رُكَبِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن حارث بن نوفل سے روایت ہے کہ` عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مؤذن کو جمعہ کے دن اذان دینے کا حکم دیا ، اور یہ بارش کا دن تھا ، تو مؤذن نے کہا : «الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله» ، پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : «حي على الصلاة ، حي على الفلاح» کی جگہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ اپنے گھروں میں نماز ادا کر لیں ، لوگوں نے یہ سنا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہنے لگے آپ نے یہ کیا کیا ؟ انہوں نے کہا : یہ کام اس شخصیت نے کیا ہے ، جو مجھ سے افضل تھی ، اور تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالوں کہ وہ میرے پاس جمعہ کے لیے اپنے گھٹنوں تک کیچڑ سے لت پت آئیں ۔