کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: تشہد اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) کے بعد کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 909
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْأَخِيرِ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ : مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص آخری تشہد ( تحیات اور درود ) سے فارغ ہو جائے تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے : جہنم کے عذاب سے ، قبر کے عذاب سے ، موت و حیات کے فتنے سے ، اور مسیح دجال کے فتنے سے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: زندگی کا فتنہ یہ ہے کہ دنیا میں مشغول ہو کر اللہ سے غافل ہو جائے، یا گناہوں میں مبتلا ہو جائے، اور موت کا فتنہ یہ ہے کہ معاذ اللہ خاتمہ برا ہو، شیطان کے بہکاوے میں آ جائے، کلمہ توحید اخیر وقت نہ پڑھ سکے، اور دجال کا فتنہ تو مشہور ہے، اور اس کا ذکر قیامت کی نشانیوں میں آئے گا ان شاء اللہ تعالیٰ، غرض یہ ہے کہ تشہد اور درود کے بعد یہ دعا پڑھے: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال» ، اور بعض روایتوں میں زیادہ ہے: «اللهم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم» ، اور بعض روایتوں میں یہ دعاء وارد ہے: «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» ، اور بعض روایتوں میں یہ دعا وارد ہے: اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» ، ان سب دعاؤں میں سے جو دعا چاہے پڑھے، اور جو چاہے دعا کرے اور اللہ سے مانگے، کچھ ممانعت نہیں ہے لیکن پہلے تشہد کی دعائیں پڑھے، پھر جو چاہے مانگے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 909
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساجد 25 ( 588 ) ، سنن ابی داود/الصلاة 184 ( 983 ) ، سنن النسائی/السہو 64 ( 1311 ) ، ( تحفة الأشراف : 14587 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجنائز 87 ( 1277 ) ، مسند احمد ( 2/ 237 ) ، سنن الدارمی/الصلاة 86 ( 1383 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 910
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ : " مَا تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ ؟ " ، قَالَ : أَتَشَهَّدُ ، ثُمَّ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ ، أَمَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ ، فَقَالَ : " حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا : ” تم نماز میں کیا کہتے ہو ؟ “ ، اس نے کہا : میں تشہد پڑھتا ہوں ، پھر اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں ، لیکن اللہ کی قسم ! میں آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ اچھی طرح نہیں سمجھتا ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم بھی اسی کے گرد گنگناتے ہیں “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی آپ ﷺ اور معاذ دھیمی آواز میں دعاء مانگا کرتے تھے۔ ۲؎: یعنی جنت کے سوال اور جہنم سے پناہ مانگنے جیسی دعائیں ہماری بھی ہوتی ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 910
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (792) وانظر الحديث الآتي (3847), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12363 ، ومصباح الزجاجة : 332 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة 127 ( 792 ) ، مسند احمد ( 3/474 ، 5/74 ) ( صحیح ) ( حدیث مکرر ہے ، ملاحظہ کریں : 3847 ) »