کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے (یعنی شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 807
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ثَلَاثًا ، الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ثَلَاثًا ، سُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ثَلَاثَ مَرَّاتِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ " ، قَالَ عَمْرٌو : هَمْزُهُ الْمُوتَةُ ، وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ ، وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جس وقت آپ نماز میں داخل ہوئے تو آپ نے «الله أكبر كبيرا» تین مرتبہ ، «الحمد لله كثيرا» تین مرتبہ ، «سبحان الله بكرة وأصيلا» تین مرتبہ کہا ، اور پھر «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه» پڑھا ” اے اللہ ! میں مردود شیطان کے جنون ، وسوسے اور کبر و غرور سے تیری پناہ چاہتا ہوں “ ۱؎ ۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ شیطان کا «ہمز» اس کا جنون ، «نفث» اس کا شعر ہے ، اور «نفخ» اس کا کبر ہے ۔
وضاحت:
۱؎: جو شخص متبع سنت ہو اس کو چاہئے کہ کبھی «سبحانك اللهم» پڑھے، کبھی «اللهم باعد بيني..»  ، کبھی «إني وجهت» ، اور کبھی حدیث میں مذکور یہ دعا اور ہر وہ دعا جو اس موقع پر صحیح اور ثابت ہے، تاکہ ہر ایک سنت کا ثواب ہاتھ آئے، یہ ایسی نعمت غیر مترقبہ ہے جس سے دوسرے لوگ ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 807
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الصلاة 121 ( 764 ) ، ( تحفة الأشراف : 3199 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/403 ، 404 ، 3/50 ، 4/80 ، 81 ، 83 ، 85 ، 6/156 ) ( ضعیف ) » ( سند میں عاصم عنزی کی صرف ابن حبان نے توثیق کی ہے ، یعنی وہ مجہول ہیں ، نیز عاصم کے نام میں بھی اختلاف ہے ، لیکن آخری ٹکڑا : «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم» ثابت ہے ، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء 2/54 )
حدیث نمبر: 808
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، وَهَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ " ، قَالَ : هَمْزُهُ الْمُوتَةُ ، وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ ، وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم وهمزه ونفخه ونفثه» ” اے اللہ ! میں مردود شیطان کے جنون ، وسوسے اور کبر و غرور سے تیری پناہ چاہتا ہوں “ ۔ راوی کہتے ہیں : «ہمز» سے مراد اس کا جنون ہے ، «نفث» سے مراد شعر ہے اور «نفخ» سے مراد کبر و غرور ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: طیبی کہتے ہیں کہ اگر یہ تفسیر حدیث میں داخل ہے تو اس کے سوا دوسری تفسیر نہیں ہو سکتی، اور جو راوی نے یہ تفسیر کی ہے تو «نفث»  سے «سحر» بھی مراد ہو سکتا ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: «ومن شر النفاثات في العقد» سورة الفلق: 4، اور «ہمز» سے شیطان کا وسوسہ بھی مراد ہو سکتا ہے، جیسے قرآن میں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 808
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9332 ، ومصباح الزجاجة : 302 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة 122 ( 775 ) ، سنن الترمذی/المواقیت 65 ( 242 ) ، مسند احمد ( 1/403 ) ( صحیح ) » ( سند میں عطاء بن السائب اختلاط کی وجہ سے ضعیف ہیں ، اور محمد بن فضیل نے ان سے اختلاط کے بعد روایت کی ہے ، نیز ابو عبدالرحمن السلمی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے ، لیکن طرق و شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے ، تراجع الألبانی : رقم : 472 ، و الإرواء : 2/54 ) ۔