حدیث نمبر: 748
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ جَبِيرَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خِصَالٌ لَا تَنْبَغِي فِي الْمَسْجِدِ : لَا يُتَّخَذُ طَرِيقًا ، وَلَا يُشْهَرُ فِيهِ سِلَاحٌ ، وَلَا يُنْبَضُ فِيهِ بِقَوْسٍ ، وَلَا يُنْشَرُ فِيهِ نَبْلٌ ، وَلَا يُمَرُّ فِيهِ بِلَحْمٍ نِيءٍ ، وَلَا يُضْرَبُ فِيهِ حَدٌّ ، وَلَا يُقْتَصُّ فِيهِ مِنْ أَحَدٍ ، وَلَا يُتَّخَذُ سُوقًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چند اعمال ایسے ہیں جو مسجد میں نامناسب ہیں ، اس کو عام گزرگاہ نہ بنایا جائے ، اس میں ہتھیار ننگا نہ کیا جائے ، تیر اندازی کے لیے کمان نہ پکڑی جائے ، اس میں تیروں کو نہ پھیلایا جائے ، کچا گوشت لے کر نہ گزرا جائے ، اس میں حد نہ قائم کی جائے ، کسی سے قصاص نہ لیا جائے ، اور اس کو بازار نہ بنایا جائے “ ۔
حدیث نمبر: 749
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبَيْعِ وَالِابْتِيَاعِ ، وَعَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ فِي الْمَسَاجِدِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت اور ( غیر دینی ) اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مراد فحش اور مخرب اخلاق اشعار ہیں، وہ اشعار جو توحید اور اتباع رسول وغیرہ اصلاحی مضامین پر مشتمل ہوں، تو ان کے پڑھنے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔
حدیث نمبر: 750
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ يَقْظَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " جَنِّبُوا مَسَاجِدَكُمْ صِبْيَانَكُمْ ، وَمَجَانِينَكُمْ ، وَشِرَاءَكُمْ ، وَبَيْعَكُمْ ، وَخُصُومَاتِكُمْ ، وَرَفْعَ أَصْوَاتِكُمْ ، وَإِقَامَةَ حُدُودِكُمْ ، وَسَلَّ سُيُوفِكُمْ ، وَاتَّخِذُوا عَلَى أَبْوَابِهَا الْمَطَاهِرَ ، وَجَمِّرُوهَا فِي الْجُمَعِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنی مسجدوں کو بچوں ، دیوانوں ( پاگلوں ) ، خرید و فروخت کرنے والوں ، اور اپنے جھگڑوں ( اختلافی مسائل ) ، زور زور بولنے ، حدود قائم کرنے اور تلواریں کھینچنے سے محفوظ رکھو ، اور مسجدوں کے دروازوں پر طہارت خانے بناؤ ، اور جمعہ کے روز مسجدوں میں خوشبو جلایا کرو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بچوں کو مسجد میں لانا اس وقت مکروہ ہے جب وہ روتے چلاتے ہوں، یا ان کے پیشاب اور پاخانہ کر دینے کا ڈر ہو، ورنہ دوسری صحیح حدیثوں سے بچوں کا مسجد میں آنا ثابت ہے۔