حدیث نمبر: 710
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَجْعَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ، وَقَالَ : " إِنَّهُ أَرْفَعُ لِصَوْتِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مؤذن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنی دونوں انگلیوں کو اپنے دونوں کانوں میں ڈال لیں ، اور فرمایا : ” اس سے تمہاری آواز خوب بلند ہو گی “ ۔
حدیث نمبر: 711
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ ، وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ ، فَخَرَجَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ ، فَاسْتَدَارَ فِي أَذَانِهِ ، وَجَعَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں وادی بطحاء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ ایک سرخ خیمہ میں قیام پذیر تھے ، بلال رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور اذان دی ، تو اپنی اذان میں گھوم گئے ( جس وقت انہوں نے «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کے کلمات کہے ) ، اور اپنی ( شہادت کی ) دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: موذن جب «حي على الصلاة» کہے، تو دائیں طرف منہ پھیرے، اور جب «حي الفلاح» کہے تو بائیں طرف منہ پھیرے، اگر اذان کے منارے میں منہ پھیرنے کی گنجائش نہ ہو تو صرف گھوم جائے۔
حدیث نمبر: 712
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَصْلَتَانِ مُعَلَّقَتَانِ فِي أَعْنَاقِ الْمُؤَذِّنِينَ لَلْمُسْلِمِينَ : صَلَاتُهُمْ ، وَصِيَامُهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمانوں کے دو کام مؤذن کی گردنوں میں لٹکے ہوتے ہیں : ایک نماز ، دوسرے روزہ “ ۔
حدیث نمبر: 713
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كَانَ بِلَالٌ لَا يُؤَخِّرُ الْأَذَانَ عَنِ الْوَقْتِ ، وَرُبَّمَا أَخَّرَ الْإِقَامَةَ شَيْئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` بلال رضی اللہ عنہ اذان وقت سے مؤخر نہ کرتے ، اور اقامت کبھی کبھی کچھ مؤخر کر دیتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اقامت اس وقت تک نہ ہوتی جب تک نبی اکرم ﷺ حجرہ مبارکہ سے باہر نہ آ جاتے، اور آپ کو دیکھ کر بلال رضی اللہ عنہ اقامت شروع کرتے۔
حدیث نمبر: 714
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، قَالَ : كَانَ " آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَتَّخِذَ مُؤَذِّنًا يَأْخُذُ عَلَى الْأَذَانِ أَجْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آخری وصیت یہ کی تھی کہ میں کوئی ایسا مؤذن نہ رکھوں جو اذان پر اجرت لیتا ہو ۔
حدیث نمبر: 715
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُثَوِّبَ فِي الْفَجْرِ ، وَنَهَانِي أَنْ أُثَوِّبَ فِي الْعِشَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں فجر کی اذان میں «تثويب» ۱؎ کہوں ، اور آپ نے عشاء کی اذان میں «تثويب» سے مجھے منع فرمایا ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: «تثويب» کہتے ہیں اعلان کے بعد اعلان کرنے یا اطلاع دینے کو، اور مراد اس سے «الصلاة خير من النوم» ہے۔ ۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ «الصلاة خير من النوم» کو نبی ﷺ نے فجر کی اذان میں جاری کیا، اور شیعہ جو کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کلمہ کو اذان میں بڑھایا یہ ان کا افتراء ہے، عمر رضی اللہ عنہ کا یہ منصب نہیں تھا کہ وہ اذان جیسی عبادت میں اپنی رائے سے گھٹاتے بڑھاتے، یہ منصب تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی کا ہے، پس بعض روایتوں میں جو یہ آیا ہے کہ مؤذن عمر رضی اللہ عنہ کو جگانے کے لئے آیا، اور اس نے کہا: «الصلاة خير من النوم» عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ” اس کلمے کو اپنی اذان میں مقرر کرو “، اس سے یہ نہیں نکلتا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کلمے کو ایجاد کیا، بلکہ احتمال ہے کہ لوگوں نے یہ کلمہ فجر کی اذان میں کہنا چھوڑ دیا ہو گا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس سنت کے جاری کرنے کے لئے تنبیہ کی، یا مطلب یہ ہو گا کہ یہ کلمہ اذان میں کہا کرو، اذان کے باہر اس کے کہنے کا کیا موقع، بہرحال اتباع میں عمر رضی اللہ عنہ سب صحابہ سے زیادہ سخت تھے، اور بدعت کے بڑے دشمن تھے، ان کے بارے میں یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ انہوں نے دین میں کوئی بات کتاب و سنت کی دلیل کے بغیر اپنی طرف سے بڑھائی ہو، جب عمر رضی اللہ عنہ کو یہ منصب حاصل نہ ہوا حالانکہ دوسری حدیث میں ابوبکر اور عمر کی پیروی کا حکم ہے، اور ایک حدیث میں ہے کہ میری سنت کو لازم کر لو، اور خلفائے راشدین کی سنت کو، تو کسی صحابی، یا امام، یا مجتہد، یا پیر، یا ولی، یا فقیر، یا غوث، یا قطب کو یہ منصب کیوں کر حاصل ہو گا، کہ وہ دین میں بغیر دلیل کے کوئی اضافہ کرے۔
حدیث نمبر: 716
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الْفَجْرِ ، فَقِيلَ : هُوَ نَائِمٌ ، فَقَالَ : " الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ " ، فَأُقِرَّتْ فِي تَأْذِينِ الْفَجْرِ ، فَثَبَتَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نماز فجر کی اطلاع دینے کے لیے آئے ، ان کو بتایا گیا کہ آپ سوئے ہوئے ہیں ، تو بلال رضی اللہ عنہ نے دو بار «الصلاة خير من النوم ، الصلاة خير من النوم» کہا ” نماز نیند سے بہتر ہے ، نماز نیند سے بہتر ہے “ تو یہ کلمات فجر کی اذان میں برقرار رکھے گئے ، پھر معاملہ اسی پر قائم رہا ۔
حدیث نمبر: 717
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الِإفْرِيقِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَأَمَرَنِي فَأَذَّنْتُ ، فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ قَدْ أَذَّنَ ، وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا ، آپ نے مجھے اذان کا حکم دیا ، میں نے اذان دی ، ( پھر جب نماز کا وقت ہوا ) تو بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنی چاہی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صداء کے بھائی ( زیاد بن حارث صدائی ) نے اذان دی ہے اور جو شخص اذان دے وہی اقامت کہے “ ۔