مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: نماز فجر کا وقت۔
حدیث نمبر: 669
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنَّ نِسَاءُ الْمُؤْمِنَاتِ يُصَلِّينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى أَهْلِهِنَّ فَلَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ تَعْنِي : مِنَ الْغَلَسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` مسلمان عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھتیں ، پھر اپنے گھروں کو واپس لوٹتیں ، لیکن انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا ، یعنی رات کے آخری حصہ کی تاریکی کے سبب ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھنی چاہئے، اور یہی نبی ﷺ کا دائمی طریقہ تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصلاة / حدیث: 669
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج « صحیح مسلم/المساجد 40 ( 645 ) ، سنن النسائی/المواقیت 24 ( 547 ) ، ( تحفة الأشراف : 16442 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصلاة 13 ( 372 ) ، المواقیت 27 ( 578 ) ، الأذان 163 ( 767 ) ، 165 ( 872 ) ، سنن ابی داود/الصلاة 8 ( 423 ) ، سنن الترمذی/الصلاة 2 ( 153 ) ، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 ( 4 ) ، مسند احمد ( 6/33 ، 36 ، 179 ، 248 ، 259 ) ، سنن الدارمی/الصلاة 20 ( 1252 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 670
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُرْءَانَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْءَانَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78 ، قَالَ : " تَشْهَدُهُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ : «وقرآن الفجر إن قرآن الفجر كان مشهودا» ( سورة الإسراء : 78 )  کی تفسیر میں فرمایا : ” اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر رہتے ہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: تو رات اور دن دونوں کے فرشتے فجر اور عصر کے وقت، جمع ہو جاتے ہیں اور یہ مضمون دوسری حدیث میں مزید صراحت سے آیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصلاة / حدیث: 670
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج « حدیث عبد اللہ بن مسعود تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3135 ) ، وحدیث أبي ہریرة أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة 47 ( 215 ) ، التفسیر 18 ( 3135 ) ، ( تحفة الأشراف : 12332 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان 31 ( 648 ) ، صحیح مسلم/المساجد 42 ( 649 ) ، مسند احمد ( 2/233 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 671
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا نَهِيكُ بْنُ يَرِيمَ الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُغِيثُ بْنُ سُمَيٍّ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلْتُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ ، فَقُلْتُ : مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ ؟ قَالَ : " هَذِهِ صَلَاتُنَا كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ فَلَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أَسْفَرَ بِهَا عُثْمَانُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیث بن سمی کہتے ہیں کہ` میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ صبح کی نماز «غلس» ( آخر رات کی تاریکی ) میں پڑھی ، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوا ، اور ان سے کہا : یہ کیسی نماز ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ وہ نماز ہے جو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اور ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ پڑھتے تھے ، لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ کو نیزہ مار کر زخمی کر دیا گیا تو عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے «اسفار» ( اجالے ) میں پڑھنا شروع کر دیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: عثمان رضی اللہ عنہ کو «اسفار» (اجالے) میں فجر پڑھتے دیکھ کر بعض تابعین کو یہ گمان پیدا ہو گیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ یہی تھا کہ وہ «اسفار» میں فجر کی نماز پڑھا کرتے جیسے ابراہیم نخعی سے منقول ہے حالانکہ «اسفار» میں پڑھنے کا باعث جان کا ڈر تھا ورنہ اصلی وقت اس نماز کا وہی تھا جو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ منہ اندھیرے نبی اکرم ﷺ اور شیخین (ابوبکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ عنہما) ایسا ہی کرتے رہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصلاة / حدیث: 671
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 7461 ، ومصباح الزجاجة : 253 ) ( صحیح ) ( نیزملاحظہ ہو : الإرواء : 1 / 279 ) »
حدیث نمبر: 672
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، وَجَدُّهُ بَدْرِيٌّ يُخْبِرُ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ ، أَوْ لِأَجْرِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبح کو اچھی طرح روشن کر لیا کرو ، اس میں تم کو زیادہ ثواب ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اتنا اجالا ہو جانے دو کہ طلوع فجر میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے، یا یہ حکم ان چاندنی راتوں میں ہے جن میں طلوع فجر واضح نہیں ہوتا، شاہ ولی اللہ دہلوی (حجۃ اللہ البالغہ) میں لکھتے ہیں کہ یہ خطاب ان لوگوں کو ہے جنہیں جماعت میں کم لوگوں کی حاضری کا خدشہ ہو، یا ایسی بڑی مسجدوں کے لوگوں کو ہے جس میں کمزور اور بچے سبھی جمع ہوتے ہوں، یا اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ فجر کی نماز خوب لمبی پڑھو، تاکہ ختم ہوتے ہوتے خوب اجالا ہو جائے، جیسا کہ ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ فجر کی نماز پڑھ کر لوٹتے تو آدمی اپنے ہم نشیں کو پہنچان لیتا اس طرح اس میں اور «غلس» والی روایتوں میں کوئی تضاد و تعارض نہیں رہ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصلاة / حدیث: 672
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج « سنن ابی داود/الطہارة 8 ( 424 ) ، سنن الترمذی/الصلاة 3 ( 154 ) ، سنن النسائی/المواقیت 26 ( 549 ) ، ( تحفة الأشراف : 3582 ) وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/460 ، 465 ، 4/140 ، 142 ، 5/429 ) ، سنن الدارمی/الصلاة 21 ( 1253 ) ( حسن صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔