کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور اس کے جھوٹے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 643
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَظْمَ وَأَنَا حَائِضٌ ، فَيَأْخُذُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ كَانَ فَمِي ، وَأَشْرَبُ مِنَ الْإِنَاءِ ، فَيَأْخُذُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ كَانَ فَمِي وَأَنَا حَائِضٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں حالت حیض میں ہڈی چوستی تھی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لیتے اور اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا ، اور میں برتن سے پانی پیتی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لیتے اور اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا ، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ حائضہ کا بدن، منہ اور لعاب ناپاک نہیں ہے، اس لئے کہ حیض کی نجاست حکمی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 643
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحیض 3 ( 300 ) ، سنن ابی داود/الطہارة 103 ( 259 ) ، سنن النسائی/الطہارة 56 ( 70 ) ، 177 ( 280 ) ، 178 ( 281 ) ، المیاہ 9 ( 342 ) ، الحیض 14 ( 377 ) ، 15 ( 380 ) ، ( تحفة الأشراف : 16145 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/62 ، 64 ، 127 ، 192 ، 210 ، 214 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 644
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا لَا يَجْلِسُونَ مَعَ الْحَائِضِ فِي بَيْتٍ ، وَلَا يَأْكُلُونَ ، وَلَا يَشْرَبُونَ ، قَالَ : فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222 ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا الْجِمَاعَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` یہود حائضہ عورتوں کے ساتھ نہ تو گھر میں بیٹھتے ، نہ ان کے ساتھ کھاتے پیتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض» ” لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں ، آپ کہہ دیجئیے : وہ ایک گندگی ہے لہٰذا تم عورتوں سے حیض کی حالت میں الگ رہو “ ( سورة البقرہ : ۲۲۲ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جماع کے سوا عورتوں سے حیض کی حالت میں سب کچھ کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 644
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحیض 3 ( 302 ) ، سنن ابی داود/الطہا رة 103 ( 258 ) ، النکاح 47 ( 2165 ) ، سنن الترمذی/تفسیر البقرة 3 ( 2977 ) ، ( تحفة الأشراف : 308 ) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الطہارة 181 ( 289 ) ، الحیض 8 ( 369 ) ، مسند احمد ( 3/246 ) ، سنن الدارمی/الطہارة 107 ( 1093 ) ( صحیح ) »