حدیث نمبر: 635
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ جَمِيعًا ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا ، أَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَأْتَزِرَ فِي فَوْرِ حَيْضَتِهَا ، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا ، وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ إِرْبَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ہم ( ازواج مطہرات ) میں سے جب کوئی حیض سے ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے حیض کی تیزی کے دنوں میں تہبند باندھنے کا حکم دیتے ، پھر اس کے ساتھ لیٹتے ، اور تم میں سے کس کو اپنی خواہش نفس پر ایسا اختیار ہے جیسا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا ؟ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: خلاصہ یہ کہ جو آدمی اپنے نفس پر قابو نہ رکھ پاتا ہو، اس کا حائضہ سے بوس و کنار اور چمٹنا مناسب نہیں کیونکہ خطرہ ہے کہ وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکے، اور جماع کر بیٹھے، جب کہ حائضہ سے جماع کی ممانعت تو قرآن کریم میں آئی ہے، ارشاد باری ہے: «فاعتزلوا النساء في المحيض» ” حالت حیض میں عورتوں سے دور رہو “ (البقرة: 222)، اور بعضوں نے کہا: جماع کے علاوہ ہر چیز درست ہے، کیونکہ دوسری حدیث میں ہے: سب باتیں کرو سوائے جماع کے، نیز یہاں مباشرت کا لفظ لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے، اصطلاحی معنی میں نہیں ہے، یعنی جسم کا جسم سے لگ جانا اور یہ جائز ہے۔
حدیث نمبر: 636
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا حَاضَتْ أَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَأْتَزِرَ بِإِزَارٍ ، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ہم میں سے جب کوئی حیض سے ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے پھر آپ اس کے ساتھ لیٹتے ۔
حدیث نمبر: 637
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافِهِ ، فَوَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ مِنَ الْحَيْضَةِ ، فَانْسَلَلْتُ مِنَ اللِّحَافِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَفِسْتِ " ؟ قُلْتُ : وَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ مِنَ الْحَيْضَةِ ، قَالَ : " ذَلِكِ مَا كَتَبَ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ " ، قَالَتْ : فَانْسَلَلْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي ، ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَالَيْ فَادْخُلِي مَعِي فِي اللِّحَافِ " ، قَالَتْ : فَدَخَلْتُ مَعَهُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے لحاف میں تھی ، تو مجھے حیض کا احساس ہوا جو عورتیں محسوس کرتی ہیں ، تو میں لحاف سے کھسک گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم کو حیض آ گیا ہے ؟ “ میں نے کہا : مجھے وہی حیض محسوس ہوا جو عورتیں محسوس کیا کرتی ہیں ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے “ ، تو میں لحاف سے کھسک کر نکل گئی اور اپنی حالت ٹھیک کر کے واپس آ گئی ، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آؤ میرے ساتھ لحاف میں داخل ہو جاؤ “ تو میں آپ کے ساتھ لحاف میں داخل ہو گئی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مساس، معانقہ، بوسہ وغیرہ سب درست ہے، ابوداؤد نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے اپنی عورت سے جب وہ حائضہ ہو کیا کرنا درست ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ” تہبند کے اوپر فائدہ اٹھانا، اور اس سے بھی بچنا افضل ہے “۔
حدیث نمبر: 638
حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : سَأَلْتُهَا كَيْفَ كُنْتِ تَصْنَعِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَيْضَةِ ؟ قَالَتْ : " كَانَتْ إِحْدَانَا فِي فَوْرِهَا أَوَّلَ مَا تَحِيضُ تَشُدُّ عَلَيْهَا إِزَارًا إِلَى أَنْصَافِ فَخِذَيْهَا ، ثُمَّ تَضْطَجِعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا : آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالت حیض میں کیسے کرتی تھیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم میں سے جسے حیض آتا وہ اپنے حیض کے شروع میں جس وقت وہ پورے جوش پر ہوتا ہے ، اپنی ران کے نصف تک تہ بند باندھ لیتی ، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیٹتی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مصباح الزجاجہ کے دونوں نسخوں میں، اور ابن ماجہ کے مشہور حسن کے نسخہ میں «الحيض» ہے، اور فوائد عبد الباقی کے یہاں «الحيضة» ہے۔