کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 613
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَأَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ ، قَالَ : " كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ ، قَالَ : وَلِّنِي ، فَأُوَلِّيهِ قَفَايَ ، وَأَنْشُرُ الثَّوْبَ فَأَسْتُرُهُ بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالسمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ، جب آپ غسل کا ارادہ کرتے تو فرماتے : ” میری طرف پیٹھ کر لو “ تو میں پیٹھ آپ کی طرف کر لیتا ، اور کپڑا پھیلا کر پردہ کر دیتا ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 613
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الطہارة 137 ( 376 ) ، سنن النسائی/الطہارة 143 ( 225 ) ، ( تحفة الأشراف : 12051 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 614
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سَأَلْتُ فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ فِي سَفَرٍ ، حَتَّى أَخْبَرَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّهُ قَدِمَ عَامَ الْفَتْحِ ، " فَأَمَرَ بِسِتْرٍ فَسُتِرَ عَلَيْهِ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ سَبَّحَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عبداللہ بن نوفل کہتے ہیں : میں نے پوچھا` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں نفل نماز پڑھی ہے ؟ تو مجھے کوئی بتانے والا نہیں ملا ، یہاں تک کہ مجھے ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال آئے ، پھر آپ نے ایک پردہ لگانے کا حکم دیا ، پردہ کر دیا گیا ، تو آپ نے غسل کیا ، پھر نفل کی آٹھ رکعتیں پڑھیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس باب کی احادیث سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ غسل کرتے وقت پردہ کر لینا چاہئے، لیکن اگر کوئی کپڑے پہنے ہوئے ہے، تو بلا پردہ غسل کرنے کی اجازت ہے، نیز اس حدیث سے تو سفر میں نفل پڑھنا ثابت ہوا بعضوں نے کہا یہ نماز الضحیٰ نہیں تھی بلکہ یہ مکہ فتح ہونے پر نماز شکر تھی، اور سعید بن ابی وقاص نے جب کسریٰ کا خزانہ فتح کیا تو ایسا ہی کیا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 614
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحیض 16 ( 336 ) ، المسافرین 13 ( 336 ) ، ( تحفة الأشراف : 18003 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الغسل 21 ( 280 ) ، الصلاة 4 ( 357 ) ، الأدب 94 ( 6158 ) ، سنن الترمذی/الاستئذان 34 ( 2734 ) ، سنن النسائی/الطہارة 143 ( 225 ) ، موطا امام مالک/قصر الصلاة 8 ( 28 ) ، مسند احمد ( 6/342 ، 425 ) سنن الدارمی/الصلاة 151 ( 1494 ) ( یہ حدیث مکرر ہے ، دیکھئے : 1379 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 615
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحِمَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَغْتَسِلَنَّ أَحَدُكُمْ بِأَرْضِ فَلَاةٍ ، وَلَا فَوْقَ سَطْحٍ لَا يُوَارِيهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ يَرَى فَإِنَّهُ يُرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھلے میدان میں یا چھت پر بغیر پردہ کے کوئی شخص ہرگز غسل نہ کرے ، اگر وہ کسی کو نہ دیکھتا ہو تو اسے تو کوئی دیکھ سکتا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اگر ایسے مقام میں غسل کی ضرورت پڑے تو کسی چیز کی آڑ کر لے تاکہ ستر پر لوگوں کی نگاہیں نہ پڑیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 615
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،أبو عبيدة،قيل: لم يسمع من أبيه عبد اللّٰه بن مسعود،والحسن بن عمارة: مجمع علي ترك حديثه ‘‘ أبو عبيدة عن أبيه منقطع, والحسن بن عمارة: متروك, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9632 ، ومصباح الزجاجة : 236 ) ( ضعیف جدًا ) » ( حسن بن عمارة متروک الحدیث ہے ، بلکہ حدیث گھڑا کرتا تھا ، اور عبد الحمید ضعیف الحدیث ہیں ، نیز أبو عبیدہ کا سماع ابن مسعود سے رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 4818 )