کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: کیا جنبی کا ٹھہرے ہوئے پانی میں غوطہٰ لگا لینا کافی ہے؟
حدیث نمبر: 605
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيَّانِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ " ، فَقَالَ : كَيْفَ يَفْعَلُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : يَتَنَاوَلُهُ تَنَاوُلًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل جنابت نہ کرے “ ، پھر کسی نے کہا : ابوہریرہ ! تب وہ کیا کرے ؟ کہا : اس میں سے پانی لے لے کر غسل کرے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ٹھہرے ہوئے پانی میں غوطہ لگانا منع ہے کیونکہ اس سے دوسرے لوگوں کو کراہت ہو گی، اس کا یہ مطلب نہیں کہ پانی ناپاک ہو جائے گا، اس لئے منع ہے کیونکہ پانی اگر دو قلہ سے زیادہ ہو تو وہ اس طرح کی نجاست سے ناپاک نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 605
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الطہارة 29 ( 283 ) ، سنن النسائی/الطہارة 139 ( 221 ) ، المیاہ 3 ( 332 ) ، الغسل 1 ( 396 ) ، ( تحفة الأشراف : 14936 ) ( صحیح ) »