کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔
حدیث نمبر: 597
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً ، فَاغْسِلُوا الشَّعَرَ ، وَأَنْقُوا الْبَشَرَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر بال کے نیچے جنابت ہے ، لہٰذا تم بالوں کو دھویا کرو ، اور بدن کی جلد کو صاف کیا کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 597
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (248) ترمذي (106), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الطہارة 98 ( 248 ) ، سنن الترمذی/الطہا رة 78 ( 106 ) ، ( تحفة الأشراف : 14502 ) ( ضعیف ) » ( اس حدیث کی سند میں حارث بن وجیہ ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 598
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ ، وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهَا " ، قُلْتُ : وَمَا أَدَاءُ الْأَمَانَةِ ؟ قَالَ : " غُسْلُ الْجَنَابَةِ فَإِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزانہ پانچوں نمازیں ، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک ، اور امانت کی ادائیگی ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں “ ، میں نے پوچھا : امانت کی ادائیگی سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” غسل جنابت ، کیونکہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: (فواد عبدالباقی کے نسخہ میں «بينها» ہے)
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 598
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3461 ، ومصباح الزجاجة : 233 ) ( ضعیف ) » ( طلحہ بن نافع کا سماع ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 3801 ، و ضعیف ابی داود : 37 )
حدیث نمبر: 599
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَسَدِهِ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلْهَا فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ " ، قَالَ عَلِيٌّ : فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعَرِي وَكَانَ يَجُزُّهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے غسل جنابت کے وقت اپنے جسم سے ایک بال کی مقدار بھی چھوڑ دیا اور اسے نہ دھویا ، تو اس کے ساتھ آگ سے ایسا اور ایسا کیا جائے گا “ ۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کر لی ، وہ اپنے بال خوب کاٹ ڈالتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ جب بال بڑے ہوں تو اکثر احتمال رہ جاتا ہے کہ شاید سارا سر نہ بھیگا ہو، کوئی مقام سوکھا رہ گیا ہو، علی رضی اللہ عنہ بالوں کو کترتے تھے، بال کاٹنا سارے سر کے منڈانے سے افضل ہے، مگر حج میں پورے بال منڈانا افضل ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 599
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الطہارة 98 ( 249 ) ، ( تحفة الأشراف : 10090 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/94 ، 101 ، 133 ) ، سنن الدارمی/الطہارة 69 ( 778 ) ( ضعیف ) » ( سند میں عطاء بن سائب ضعیف ہیں )