حدیث نمبر: 536
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنِ الثَّوْبِ يُصِيبُهُ الْمَنِيُّ أَنَغْسِلُهُ ، أَوْ نَغْسِلُ الثَّوْبَ كُلَّهُ ؟ قَالَ سُلَيْمَانُ : قَالَتْ عَائِشَةُ " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصِيبُ ثَوْبَهُ فَيَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِهِ ، ثُمَّ يَخْرُجُ فِي ثَوْبِهِ إِلَى الصَّلَاةِ ، وَأَنَا أَرَى أَثَرَ الْغَسْلِ فِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ` میں نے سلیمان بن یسار سے سوال کیا : اگر کپڑے میں منی لگ جائے تو ہم صرف اتنا ہی حصہ دھوئیں یا پورے کپڑے کو ؟ سلیمان نے کہا : ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں منی لگ جاتی تو اس حصے کو دھو لیتے ، پھر اسی کو پہن کر نماز کے لیے تشریف لے جاتے ، اور میں اس کپڑے میں دھونے کا نشان دیکھتی تھی ۔