حدیث نمبر: 531
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : إِنِّي امْرَأَةٌ" أُطِيلُ ذَيْلِي فَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ ؟ ، فَقَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کی ام ولد سے روایت ہے کہا` انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ سے پوچھا : میرا دامن بہت لمبا ہے ، اور مجھے گندی جگہ میں چلنا پڑتا ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” ناپاک زمین کے بعد والی زمین اس دامن کو پاک کر دیتی ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حال اس لٹکتے ہوئے دامن کا ہے جو ناپاک جگہوں سے رگڑتا ہے، جس کی طہارت کا حدیث میں ایک انوکھا عمدہ اور سہل طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کے بعد کی پاک جگہ کی رگڑ اسے پاک و صاف کر دے گی برخلاف ہمارے یہاں کے وسوسہ میں مبتلا لوگوں کے جنہوں نے دامنِ محمدی چھوڑ کر شیطان کے گریبان وسواس میں سر ڈالا ہے، اور ادنی سے چھینٹوں کو دھو کر کپڑوں کا ناس نکالا ہے، «نعوذ باللہ من ہذا الوسواس» ۔
حدیث نمبر: 532
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْيَشْكُرِيُّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُرِيدُ الْمَسْجِدَ فَنَطَأُ الطَّرِيقَ النَّجِسَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَرْضُ يُطَهِّرُ بَعْضُهَا بَعْضًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ہم مسجد جاتے ہیں تو ناپاک راستے پر ہمارے پیر پڑ جاتے ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زمین کا دوسرا ( پاک ) حصہ اسے پاک کر دیتا ہے “ ۔
حدیث نمبر: 533
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، قَالَتْ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنَّ " بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ طَرِيقًا قَذِرَةً ؟ قَالَ : " فَبَعْدَهَا طَرِيقٌ أَنْظَفُ مِنْهَا " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَهَذِهِ بِهَذِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قبیلہ بنو عبدالاشہل کی ایک عورت رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : میرے اور مسجد کے مابین ایک گندا راستہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا اس کے بعد اس سے صاف راستہ ہے “ ، میں نے کہا : ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو یہ اس کے بدلے ہے “ ۔