حدیث نمبر: 528
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَوَثَبَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُزْرِمُوهُ ، ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا ، تو کچھ لوگ اس کی جانب لپکے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کا پیشاب نہ روکو اطمینان سے کر لینے دو “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی منگایا ، اور اس پر بہا دیا ۔
حدیث نمبر: 529
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَقَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَلِمُحَمَّدٍ ، وَلَا تَغْفِرْ لِأَحَدٍ مَعَنَا ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : " لَقَدِ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا " ، ثُمَّ وَلَّى ، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَشَجَ يَبُولُ ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدَ أَنْ فَقِهَ ، فَقَامَ : إِلَيَّ بِأَبِي وَأُمِّي ، فَلَمْ يُؤَنِّبْ ، وَلَمْ يَسُبَّ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا الْمَسْجِدَ لَا يُبَالُ فِيهِ ، وَإِنَّمَا بُنِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ ، وَلِلصَّلَاةِ " ، ثُمَّ أَمَرَ بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَأُفْرِغَ عَلَى بَوْلِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک اعرابی ( دیہاتی ) مسجد میں داخل ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ، اس نے کہا : اے اللہ ! میری اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت فرما دے ، اور ہمارے ساتھ کسی اور کی مغفرت نہ کر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا : ” تم نے ایک کشادہ چیز ( یعنی اللہ کی مغفرت ) کو تنگ کر دیا “ ، پھر وہ دیہاتی پیٹھ پھیر کر چلا ، اور جب مسجد کے ایک گوشہ میں پہنچا تو ٹانگیں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا ، پھر دین کی سمجھ آ جانے کے بعد ( یہ قصہ بیان کر کے ) دیہاتی نے کہا : میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں ، مجھے نہ تو آپ نے ڈانٹا ، نہ برا بھلا کہا ، صرف یہ فرمایا : ” یہ مسجد پیشاب کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کے ذکر اور نماز کے لیے بنائی گئی ہے “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا ، تو وہ اس کے پیشاب پر بہا دیا گیا ۔
حدیث نمبر: 530
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْهُذَلِيِّ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى هُوَ عِنْدَنَا ابْنُ أَبِي حُمَيْدٍ أَنْبَأَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الْهُذَلِيُّ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي ، وَمُحَمَّدًا ، وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِكَ إِيَّانَا أَحَدًا ، فَقَالَ : " لَقَدْ حَظَرْتَ وَاسِعًا وَيْحَكَ ، أَوْ وَيْلَكَ " ، قَالَ : فَشَجَ يَبُولُ ، فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَهْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهُ ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک اعرابی ( دیہاتی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور کہنے لگا : اے اللہ مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما ، اور ہمارے ساتھ اپنی رحمت میں کسی کو شریک نہ کر ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ، افسوس ہے تم پر یا تمہارے لیے خرابی ہے “ ، واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : وہ پاؤں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : رکو ، رکو ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے چھوڑ دو “ ( پیشاب کر لینے دو ) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی منگایا اور اس پر بہا دیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس باب کی احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ ناپاک زمین پر پانی بہانا کافی ہے، اور اسی سے وہ پاک ہو جاتی ہے۔