کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: حوض اور تالاب کا بیان۔
حدیث نمبر: 519
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْحِيَاضِ الَّتِي بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ تَرِدُهَا السِّبَاعُ ، وَالْكِلَابُ ، وَالْحُمُرُ ، وَعَنِ الطَّهَارَةِ مِنْهَا ؟ فَقَالَ لَهَا : " مَا حَمَلَتْ فِي بُطُونِهَا ، وَلَنَا مَا غَبَرَ طَهُورٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان جو حوض و تالاب واقع ہیں ، اور ان پر درندے ، کتے اور گدھے پانی پینے آتے ہیں ، تو ایسے حوضوں و تالابوں کا اور ان کے پانی سے طہارت حاصل کرنے کا کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کچھ انہوں نے اپنی تہ میں سمیٹ لیا ، وہ ان کا حصہ ہے ، اور جو پانی حوض ( تالاب ) میں بچا ، وہ ہمارے لیے پاک کرنے والا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 519
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, عبد الرحمٰن بن زيد: ضعيف, وكان يروي عن أبيه أحاديث موضوعة والسند ضعفه البوصيري, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 397
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4186 ، ومصباح الزجاجة : 216 ) ( ضعیف ) » ( عبدالرحمن بن زید ضعیف ہیں ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 1609 )
حدیث نمبر: 520
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ طَرِيفِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : انْتَهَيْنَا إِلَى غَدِيرٍ فَإِذَا فِيهِ جِيفَةُ حِمَارٍ ، قَالَ : فَكَفَفْنَا عَنْهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " ، اسْتَقَيْنَا ، وَأَرْوَيْنَا ، وَحَمَلْنَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم ایک تالاب پر پہنچے تو دیکھا کہ اس میں ایک گدھے کی لاش پڑی ہوئی ہے ہم اس ( کے استعمال ) سے رک گئے ، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس پہنچے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی “ ( یہ سنا ) تو ہم نے پیا پلایا ، اور پانی بھر کر لاد لیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 520
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قصة الجيفة , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد فيه طريف بن شهاب،وقد أجمعوا علي ضعفه‘‘ وھو ضعيف (ترمذي: 238), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 397
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3114 ) ( صحیح ) » ( سند میں طریف بن شہاب اور شریک القاضی ضعیف ہیں ، اس لئے یہ اسناد ضعیف ہے ، اور «جیفہ حمار» کا قصہ صحیح نہیں ہے ، لیکن بقیہ مرفوع حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : ا لإرواء : 14 ، وصحیح ابی داود : 59 )
حدیث نمبر: 521
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيَّانِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، أَنْبَأَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ ، إِلَّا مَا غَلَبَ عَلَى رِيحِهِ ، وَطَعْمِهِ ، وَلَوْنِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی مگر جو چیز اس کی بو ، مزہ اور رنگ پر غالب آ جائے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: نجاست پڑنے کے بعد اگر پانی میں بو، رنگ اور مزہ کی تبدیلی ہو جائے تو وہ پانی کم ہو یا زیادہ نجس و ناپاک ہو جائے گا، اس پر علماء کا اجماع ہے کما تقدم۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 521
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد فيه رشدين وھو ضعيف واختلف عليه مع ضعفه ‘‘ ويغني عنه الإجماع،انظر: الإجماع لابن المنذر (ص 33 نص 11،12) رشدين: ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 397
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4860 ، ومصباح الزجاجة : 218 ) ( ضعیف ) » ( رشدین اور راشد بن سعد دونوں ضعیف ہیں ، یہ حدیث صحیح نہیں ہے ، لیکن علماء کا اس کے عمل پر اجماع ہے ، یعنی اگر نجاست پڑنے سے پانی میں تبدیلی پیدا ہو جائے تو وہ پانی نجس ہے )