کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: شرمگاہ چھونے پر وضو نہ کرنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 483
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ طَلْقٍ الْحَنَفِيَّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سُئِلَ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ ؟ فَقَالَ : لَيْسَ فِيهِ وُضُوءٌ إِنَّمَا هُوَ مِنْكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا : آپ سے شرمگاہ چھونے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا : ” اس کے چھونے سے وضو نہیں ہے ، وہ تو تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بسرہ بنت صفوان اور طلق بن علی رضی اللہ عنہما دونوں کی روایتیں بظاہر متعارض ہیں لیکن بسرہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو ترجیح اس لئے حاصل ہے کہ وہ زیادہ صحیح و ثابت ہے، اور طلق بن علی رضی اللہ عنہ کی روایت منسوخ ہے کیونکہ وہ پہلے کی ہے، اور بسرہ رضی اللہ عنہا کی روایت بعد کی ہے جیسا کہ ابن حبان اور حازمی نے اس کی تصریح کی ہے، اور دونوں میں تطبیق اس طرح سے بھی دی جاتی ہے کہ بسرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بغیر کسی حاجز (پردہ) کے چھونے سے متعلق ہے، اور طلق کی حدیث حاجز (پردہ) کے اوپر چھونے سے متعلق ہے، لہذا اگر کوئی بغیر کسی حائل کے شرمگاہ چھولے تو وضو کرے اور اگر کوئی پردہ حائل ہو تو وضو کی ضرورت نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 483
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الطہارة 71 ( 182 ) ، سنن الترمذی/الطہارة 62 ( 85 ) ، سنن النسائی/الطہارة 119 ( 165 ) ، ( تحفة الأشراف : 5023 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/22 ، 23 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 484
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّمَا هُوَ جِذْيَةٌ مِنْكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرمگاہ چھونے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تو تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 484
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال البوصيري: ’’ھذا إسناد فيه جعفر بن الزبير وقد اتفقوا علي ترك حديثه واتھموه‘‘ وقال الحافظ: متروك الحديث وكان صالحًا في نفسه (تقريب: 939), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 395
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4912 ، ومصباح الزجاجة : 199 ) ( ضعیف جدًا ) » ( اس سند میں جعفر بن زبیر متروک راوی ہے ، شعبہ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ وہ اکذب الناس ہے )