حدیث نمبر: 456
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا " تَوَضَّأَ فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ " ، ثُمَّ قَالَ : أَرَدْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ طُهُورَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوحیہ کہتے ہیں کہ` میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا ، اور اپنے دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا ، پھر کہنے لگے : میرا مقصد یہ تھا کہ تمہیں تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دکھلا دوں ۔
حدیث نمبر: 457
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، اور اپنے دونوں پیروں کو تین تین بار دھویا ۔
حدیث نمبر: 458
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ الرُّبَيِّعِ ، قَالَتْ : أَتَانِي ابْنُ عَبَّاسٍ فَسَأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ؟ تَعْنِي حَدِيثَهَا الَّذِي ذَكَرَتْ : أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ " ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ النَّاسَ أَبَوْا إِلَّا الْغَسْلَ ، وَلَا أَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا الْمَسْحَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ربیع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میرے پاس ابن عباس رضی اللہ عنہما آئے ، اور انہوں نے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا ، اس سے وہ اپنی وہ حدیث مراد لے رہی تھیں جس میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، اور اپنے دونوں پیر دھوئے ، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لوگ پاؤں کے دھونے ہی پر مصر ہیں جب کہ میں قرآن کریم میں پاؤں کے صرف مسح کا حکم پاتا ہوں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں ” ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا “ سے آخر تک محدثین کرام کے نزدیک منکر ہے، اس لئے اس کی بنیاد پر حدیث کے ضعف پر استدلال درست نہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما خود پیر دھونے پر عامل اور اس کے قائل تھے۔