حدیث نمبر: 373
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے پاکی حاصل کرنے کے جواز اور عدم جواز کے سلسلے میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں، لہٰذا ممانعت یا عدم جواز کی روایات کو اس پانی پر محمول کیا جائے، جو اعضاء کو دھوتے وقت گرا ہو، یا ان میں وارد ممانعت نہی تنزیہی ہے، تحریمی نہیں، یعنی نہ کرنا اولیٰ اور بہتر ہے، جواز کی روایتوں کو برتن میں بچے ہوئے پانی پر محمول کیا جائے، اس صورت میں کوئی تعارض نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 374
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ ، وَالْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ ، وَلَكِنْ يَشْرَعَانِ جَمِيعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے اور عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے ، البتہ دونوں ایک ساتھ شروع کریں ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں : صحیح پہلی حدیث یعنی حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کی ہے ، اور دوسری حدیث یعنی عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کی وہم ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اوپر کی حدیث (۳۷۳) صحیح ہے، امام ترمذی کہتے ہیں کہ امام بخاری نے فرمایا: عبداللہ سرجس کی اس باب میں حدیث موقوف صحیح ہے، جس نے اسے مرفوع بیان کیا غلطی کی (سنن ترمذی: ۱/ ۱۹۳)۔
حدیث نمبر: 374M
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةْ : الصَّحِيحُ هُوَ الْأَوَّلُ ، وَالثَّانِي ، وَهْمٌ ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، وَأَبُو عُثْمَانَ الْبُخَارِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` اسی کی ہم معنی حدیث آئی ہے ۔
حدیث نمبر: 375
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ يَغْتَسِلُونَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، وَلَا يَغْتَسِلُ أَحَدُهُمَا بِفَضْلِ صَاحِبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے ، اور کوئی ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل نہیں کرتا تھا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ظاہر یہ ہے کہ غسل ایک کا دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے جائز ہے، مگر نہی جو وارد ہوئی ہے تنزیہی ہے، یعنی نہ کرنا اولیٰ اور بہتر ہے۔