کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: برتن کو ڈھانک کر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 360
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُوكِيَ أَسْقِيَتَنَا وَنُغَطِّيَ آنِيَتَنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے مشکیزوں کے منہ باندھ کر اور برتنوں کو ڈھک کر رکھیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھک کر رکھنا چاہئے تاکہ کھانے پینے کی چیز میں گرد و غبار نہ آنے پائے اور کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رہے، نیز یہ حکم عام ہے، دن ہو یا رات، ٹھنڈی ہو یا گرمی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 360
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2792 ) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الأشربة 12 ( 2013 ) ، سنن ابی داود/الجہاد 83 ( 604 ) ، مسند احمد ( 3/82 ) ( یہ حدیث مکرر ہے ، دیکھئے : 3411 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 361
حَدَّثَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ، حَدَّثَنَا حَرِيشُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَضَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ آنِيَةٍ مِنَ اللَّيْلِ مُخَمَّرَةً إِنَاءً لِطَهُورِهِ ، وَإِنَاءً لِسِوَاكِهِ ، وَإِنَاءً لِشَرَابِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو تین برتن ڈھانپ کر رکھتی تھی ، ایک برتن آپ کی طہارت ( وضو ) کے لیے ، دوسرا آپ کی مسواک کے لیے ، اور تیسرا آپ کے پینے کے لیے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 361
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث الآتي (3412), قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف, حريش بن الخريت متفق علي ضعفه ‘‘ وقال الحافظ: ضعيف (تقريب: 1187), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 390
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 16237 ، ومصباح الزجاجة : 150 ) ( آگے یہ کتاب الأشربہ میں آ رہی ہے ، ( 3412 ) ( ضعیف ) » ( سند میں ''حريش بن الخريت'' ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 362
حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُطَهَّرُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكِلُ طُهُورَهُ إِلَى أَحَدٍ ، وَلَا صَدَقَتَهُ الَّتِي يَتَصَدَّقُ بِهَا يَكُونُ هُوَ الَّذِي يَتَوَلَّاهَا بِنَفْسِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طہارت ( وضو ) کے برتن کو کسی دوسرے کے سپرد نہیں کرتے تھے ، اور نہ اس چیز کو جس کو صدقہ کرنا ہوتا ، بلکہ اس کا انتظام خود کرتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اکثر عادت ایسی ہی تھی کہ وضو کرنے میں اور پانی لانے اور کپڑے پاک کرنے میں کسی سے مدد نہ لیتے، اور اگر کوئی بخوشی نبی اکرم ﷺ کی خدمت بجا لاتا تو اس کو بھی منع نہ کرتے، چنانچہ اوپر کی روایت میں ابھی گزرا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے وضو کا پانی رکھتیں، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صاحب اداوہ و نعلین مشہور تھے، یعنی وضو کے وقت نبی اکرم ﷺ کے لیے پانی والی چھاگل لانے اور آپ کے لیے جوتے لا کر رکھنے والے صحابی کی حیثیت سے آپ کی شہرت تھی، اور ثوبان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو وضو کرایا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 362
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،علقمة بن أبي جمرة: مجهول،ومطهر بن الهيثم: ضعيف ‘‘, وقال الحافظ في مطھر: متروك (تقريب: 6713), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 390
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 6535 ، ومصباح الزجاجة : 151 ) ( ضعیف جدًا ) » ( سند میں علقمہ مجہول اور مطہر بن الہیثم ضعیف ومتروک راوی ہے ، ابن حبان کہتے ہیں کہ وہ ایسی حدیث روایت کرتا ہے ، جس پر کوئی اس کی متابعت نہیں کرتا ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 4250 )