حدیث نمبر: 354
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ قَطُّ إِلَّا مَسَّ مَاءً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی نہ دیکھا کہ آپ پاخانہ سے نکلے ہوں اور پانی نہ لیا ہو ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ ہمیشہ پانی سے استنجاء کرتے تھے، کیونکہ پانی سے بھر پور طہارت حاصل ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 355
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ هَذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ سورة التوبة آية 108 ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطُّهُورِ ، فَمَا طُهُورُكُمْ " ؟ قَالُوا : نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ، وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ، وَنَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ ، قَالَ : " فَهُوَ ذَاكَ فَعَلَيْكُمُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوایوب انصاری ، جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ` جب یہ آیت کریمہ : «فيه رجال يحبون أن يتطهروا والله يحب المطهرين» ” اس میں کچھ لوگ ہیں جو پاکی کو پسند کرتے ہیں ، اور اللہ پاکی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے “ ( سورة التوبة : 108 ) ، اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے انصار کی جماعت ! اللہ تعالیٰ نے طہارت کے بارے میں تمہاری تعریف کی ہے ، تو وہ تمہاری کیسی طہارت ہے “ ، ان لوگوں نے کہا : ” ہماری طہارت یہ ہے کہ ہم لوگ نماز کے لیے وضو کرتے ہیں ، اور جنابت ہونے سے غسل کرتے ہیں ، اور پانی سے استنجاء کرتے ہیں “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی کا ) یہی سبب ہے ، لہٰذا تم لوگ اس طہارت پر کاربند رہو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی آیت کا معنی یہ ہے کہ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ جل جلالہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے، اور ضمیر اس آیت میں مسجد قبا، یا مسجد نبوی کی طرف لوٹ رہی ہے، شاید پانی سے استنجا کرنے سے ہی ان کی تعریف کی گئی ہے، ورنہ غسل جنابت اور وضو مہاجرین بھی کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 356
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْسِلُ مَقْعَدَتَهُ ثَلَاثًا " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَعَلْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ دَوَاءً وَطُهُورًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سرین کو تین بار دھوتے تھے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے بھی ایسے ہی کیا ، تو اسے دوا اور پاکی دونوں پایا ۔
حدیث نمبر: 356M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` اسی کے ہم معنی روایت آئی ہے ۔
حدیث نمبر: 357
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَزَلَتْ فِي أَهْلِ قُبَاءَ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ سورة التوبة آية 108 قَالَ : " كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ ، فَنَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ آیت کریمہ اہل قباء کے بارے میں نازل ہوئی : «فيه رجال يحبون أن يتطهروا والله يحب المطهرين» ” اس میں کچھ لوگ ہیں جو پاکی کو پسند کرتے ہیں ، اور اللہ پاکی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے “ ( سورة التوبة : 108 ) ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ پانی سے استنجاء کرتے تھے تو ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ۔