کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: پاخانہ اور پیشاب کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 337
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ حُصَيْنٍ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَحْسَنَ ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ ، وَمَنْ تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ ، وَمَنْ لَاكَ فَلْيَبْتَلِعْ ، مَنْ فَعَلَ ذَاكَ فَقَدْ أَحْسَنَ ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ ، وَمَنْ أَتَى الْخَلَاءَ فَلْيَسْتَتِرْ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَمْدُدْهُ عَلَيْهِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ ابْنِ آدَمَ ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو استنجاء میں پتھر استعمال کرے تو طاق استعمال کرے ، جس نے ایسا کیا اچھا کیا ، اور جس نے ایسا نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ، اور جو خلال کرے ( اور دانتوں سے کچھ نکلے ) تو اسے تھوک دے ، اور جو چیز زبان کی حرکت سے نکلے اسے نگل جائے ، جس نے ایسا کیا اچھا کیا ، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ، اور جو شخص قضائے حاجت کے لیے باہر میدان میں جائے تو آڑ میں ہو جائے ، اگر آڑ کی جگہ نہ پائے اور ریت کا کوئی تودہ ہو تو اسی کی آڑ میں ہو جائے ، اس لیے کہ شیطان انسانوں کی شرمگاہوں سے کھیل کرتا ہے ، جس نے ایسا کیا اچھا کیا ، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 337
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف لكن عند ق من الأمر بايتار الاستجمار , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (35) وانظر الحديث الآتي (3498), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 389
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الطہارة 19 ( 35 ) ، ( تحفة الأشراف : 14938 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/371 ) ، سنن الدارمی/الطہارة 5 ( 689 ) ( ضعیف ) » ( سند میں حصین حمیری اور ابو سعد الخیر مجہول ہیں ، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے ، لیکن «من استجمر فليوتر» کا جملہ صحیح ہے ، یہ حدیث آگے ( 3498 ) پر بھی آ رہی ہے ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 1028 )
حدیث نمبر: 338
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ بِإِسْنَادِهِ ، نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ ، " وَمَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ ، وَمَنْ لَاكَ فَلْيَبْتَلِعْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے` اور اس میں اتنا اضافہ ہے : ” جو سرمہ لگائے تو طاق لگائے ، جس نے ایسا کیا اچھا کیا ، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ، اور جو کچھ زبان کی حرکت سے نکلے اسے نگل جائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 338
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, انظر الحديث السابق و الآتي (3498), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 389
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ ( ضعیف ) » ( سابقہ علت کی وجہ سے یہ ضعیف ہے ، لیکن «من اكتحل فليوتر» کا جملہ شواہد صحیحہ کی وجہ سے صحیح ہے )
حدیث نمبر: 339
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَأَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ ، فَقَالَ لِي : " ائْتِ تِلْكَ الْأَشَاءَتَيْنِ " ، قَالَ وَكِيعٌ : يَعْنِي النَّخْلَ الصِّغَارَ ، قَالَ أبُو بَكْرٍ : فَقُلْ لَهُمَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا ، فَاجْتَمَعَتَا فَاسْتَتَرَ بِهِمَا فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ قَالَ لِي : " ائْتِهِمَا ، فَقُلْ لَهُمَا : لِتَرْجِعْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا إِلَى مَكَانِهَا " ، فَقُلْتُ لَهُمَا فَرَجَعَتَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مرہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا ، آپ نے قضائے حاجت کا ارادہ کیا اور مجھ سے کہا : ” تم کھجور کے ان دونوں چھوٹے درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں باہم مل جانے کا حکم دے رہے ہیں “ ، چنانچہ حکم پاتے ہی وہ دونوں درخت باہم مل گئے ۲؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آڑ میں قضائے حاجت کی اور پھر مجھ سے فرمایا : ” ان دونوں کے پاس جاؤ اور کہو کہ اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ جائیں “ ۔ مرہ کہتے ہیں : میں نے جا کر ان سے یہ کہا تو وہ دونوں درخت اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ گئے ۔
وضاحت:
۱؎: مصباح الزجاجہ (۱۳۸) میں اس کے بعد: «قال أبوبكر القصار»  کا اضافہ کیا ہے، اور ایسے ہی مشہور حسن کے یہاں ہے، لیکن سند میں ابوبكر کا ذکر نہیں ہے) ۲؎: درخت کا نبی اکرم ﷺ کے حکم سے چلے آنا آپ کا معجزہ تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 339
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11249 ، ومصباح الزجاجة : 140 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/172 ) ( صحیح ) » ( سند میں ضعف ہے اس لئے کہ منہال کا سماع یعلی بن مرہ سے نہیں ہے ، لیکن دوسرے شواہد اور طرق سے یہ صحیح ہے ، ( ملاحظہ ہو : زہد وکیع ( 509 ) تحقیق سنن ابی داود/عبد الرحمن الفریوائی )
حدیث نمبر: 340
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : " كَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ ، أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قضائے حاجت کے وقت آڑ کے لیے ٹیلے یا کھجوروں کے جھنڈ سب سے زیادہ پسندیدہ تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 340
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الحیض 79 ( 342 ) ، الفضائل 11 ( 2429 ) ، سنن ابی داود/الجہاد 47 ( 2549 ) ، ( تحفة الأشراف : 5215 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/204 ، 205 ) ، سنن الدارمی/الطہارة 5 ( 690 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 341
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ خُوَيْلِدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الشِّعْبِ فَبَالَ ، حَتَّى أَنِّي آوِي لَهُ مِنْ فَكِّ وَرِكَيْهِ حِينَ بَالَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستہ چھوڑ کر ایک گھاٹی کی جانب مڑے اور پیشاب کیا ، یہاں تک کہ مجھے ترس آتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیروں کو پیشاب کے وقت بہت زیادہ کشادہ کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 341
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, محمد بن ذكوان:ضعيف (تقريب: 5871), والحديث ضعفه البوصيري, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 389
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5650 ، ومصباح الزجاجة : 141 ) ( ضعیف ) » ( سند میں محمد بن ذکوان ضعیف و منکر الحدیث ہیں )