کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: پیشاب کر کے پانی استعمال نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 327
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى التَّوْأَمِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ فَاتَّبَعَهُ عُمَرُ بِمَاءٍ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا عُمَرُ ؟ " قَالَ : مَاءٌ ، قَالَ : " مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کے لیے باہر تشریف لے گئے ، اور عمر رضی اللہ عنہ پیچھے سے پانی لے کر پہنچے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : عمر یہ کیا ہے ؟ کہا : پانی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں ، تو وضو کروں ، اور اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت واجبہ بن جائے گی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشاب کے بعد وضو کرنا ضروری نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 327
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (42), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 388
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الطہارة 22 ( 42 ) ، ( تحفة الأشراف : 17982 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/95 ) ( ضعیف ) » ( تراجع الألبانی ، رقم : 296 ، حدیث کی سند میں عبد اللہ بن یحییٰ التوام ضعیف ہیں )