حدیث نمبر: 304
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی بھی شخص اپنے غسل خانہ میں قطعاً پیشاب نہ کرے ، اس لیے کہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں “ ۔
حدیث نمبر: 304M
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيَّ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا هَذَا فِي الْحَفِيرَةِ ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا ، فَمُغْتَسَلَاتُهُمُ الْجِصُّ ، وَالصَّارُوجُ ، وَالْقِيرُ ، فَإِذَا بَالَ فَأَرْسَلَ عَلَيْهِ الْمَاءَ لَا بَأْسَ بِهِ " 10 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ` میں نے محمد بن یزید کو کہتے سنا : وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے علی بن محمد طنافسی کو کہتے ہوئے سنا : یہ ممانعت اس جگہ کے لیے ہے جہاں غسل خانے کچے ہوں ، اور پانی جمع ہوتا ہو ، لیکن آج کل غسل خانہ میں پیشاب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس لیے کہ اب غسل خانے چونا ، گچ اور ڈامر ( تارکول ) کے ذریعے پختہ بنائے جاتے ہیں ، اگر ان میں کوئی پیشاب کرے اور پانی بہا دے تو کوئی حرج نہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بہتر یہی ہے کسی بھی طرح کے غسل خانے میں پیشاب نہ کرے۔