کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: وضو (طہارت) کا ثواب۔
حدیث نمبر: 281
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا دَرَجَةً ، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جب کوئی وضو کرتا ہے ، اور اچھی طرح وضو کرتا ہے ، پھر مسجد آتا ہے ، اور اس کے گھر سے نکلنے کا سبب صرف نماز ہی ہوتی ہے ، تو اس کے ہر قدم کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا اور ایک گناہ مٹاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 281
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12552 ( ألف ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/ الصلاة 87 ( 477 ) ، سنن ابی داود/الصلاة 52 ( 564 ) ، مسند احمد ( 2/252 ، 475 ) ، ( یہ حدیث مکرر ہے ، دیکھئے : 774 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 282
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَار ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ ، وَاسْتَنْشَقَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ فِيهِ وَأَنْفِهِ ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ يَدَيْهِ ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ ، وَكَانَتْ صَلَاتُهُ ، وَمَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ نَافِلَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے وضو کیا ، کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تو اس کے گناہ ناک اور منہ سے نکل جاتے ہیں ، اور جب وہ اپنا منہ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے منہ سے نکل جاتے ہیں ، یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ، پھر جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے دونوں ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں ، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے گناہ اس کے سر سے نکل جاتے ہیں ، یہاں تک کہ اس کے کانوں سے بھی نکل جاتے ہیں ، اور جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے دونوں پاؤں سے نکل جاتے ہیں ، یہاں تک کہ پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ، اور اس کی نماز اور مسجد کی جانب اس کا جانا ثواب مزید کا باعث ہوتا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے مراد صغائر (گناہ صغیرہ) ہیں کیونکہ کبائر (گناہ کبیرہ) بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے، اسی طرح حقوق العباد (بندوں کے حقوق) سے متعلق گناہ اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک ان کے حقوق کی ادائیگی نہ کر دی جائے، یا ان سے معاف نہ کرا لیا جائے، نیز اس حدیث سے گھر سے وضو کر کے مسجد میں جانے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 282
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن النسائی/الطہارة 85 ( 103 ) ، ( تحفة الأشراف : 9677 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الطہارة 6 ( 30 ) ، مسند احمد ( 4/348 ، 349 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 283
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا غُنْدَر مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ يَدَيْهِ ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ وَجْهِهِ ، فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ ذِرَاعَيْهِ وَرَأْسِهِ ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ رِجْلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب بندہ وضو کرتا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے ہاتھوں سے جھڑ جاتے ہیں ، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے چہرے سے جھڑ جاتے ہیں ، اور جب اپنے بازو دھوتا ہے اور سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے گناہ بازوؤں اور سر سے جھڑ جاتے ہیں ، اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے پاؤں سے جھڑ جاتے ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 283
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10763 ) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المسافرین 52 ( 832 ) ، سنن النسائی/الطہارة 108 ( 147 ) ، مسند احمد ( 4/112 ، 113 ، 114 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 284
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : " غُرٌّ مُحَجَّلُونَ بُلْقٌ مِنْ آثَارِ الطُّهُورِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو قیامت کے دن کیسے پہچانیں گے جن کو آپ نے دیکھا نہیں ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وضو کے اثر کی وجہ سے ان کی پیشانی ، ہاتھ اور پاؤں سفید اور روشن ہوں گے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حدیث اس بات کی صریح علامت ہے کہ صحابہ کرام رسول اکرم ﷺ کو ہر وقت، ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں سمجھتے تھے، اور خود رسول اللہ کا بھی یہ عقیدہ نہ تھا، ورنہ صحابہ یہ سوال کیوں کرتے اور آپ جواب یہ کیوں دیتے؟
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 284
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9225 ، ومصباح الزجاجة : 117 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/403 ، 451 ، 453 ) ( حسن صحیح ) »
حدیث نمبر: 284M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ : حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` ایسی ہی حدیث مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 284M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح
تخریج حدیث t
حدیث نمبر: 285
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي حُمْرَانُ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَاعِدًا فِي الْمَقَاعِدِ ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَقْعَدِي هَذَا تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَا تَغْتَرُّوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام حمران کہتے ہیں کہ` میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مسجد کے قریب چبوترے پہ بیٹھا ہوا دیکھا ، انہوں نے وضو کا پانی منگایا ، اور وضو کیا ، پھر کہنے لگے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسی بیٹھنے کی جگہ پر دیکھا کہ آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس بشارت سے دھوکے میں نہ آ جانا ( کہ نیک اعمال چھوڑ دو ) “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 285
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن النسائی/الطہارة 68 ( 84 ) ، ( تحفة الأشراف : 9792 ، ومصباح الزجاجة : 118 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الوضوء 24 ( 159 ) ، 28 ( 164 ) ، الصوم 27 ( 1934 ) ، صحیح مسلم/الطہارة 3 ( 226 ) ، سنن ابی داود/الطہارة 50 ( 106 ) موطا امام مالک/الطہارة 6 ( 29 ) ، مسند احمد ( 1/66 ) ، سنن الدارمی/الطہارة 27 ( 720 ) ، ( اور ان میں «ولا تغتروا» کا لفظ نہیں ہے ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 285M
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي حُمْرَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` ایسا ہی مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 285M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث t