کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: پابندی سے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 277
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا ، وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةَ ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” راہ استقامت پر قائم رہو ۱؎ ، تم ساری نیکیوں کا احاطہٰ نہیں کر سکو گے ، اور تم جان لو کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے ، اور وضو کی محافظت صرف مومن کرتا ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: راہ استقامت پر قائم رہو کا مطلب ہے کہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ اسلام کے اوامر و نواہی پر جمے رہو، استقامت کمال ایمان کی علامت ہے، اس لئے اس مرتبہ پر بہت ہی کم لوگ پہنچ پاتے ہیں کیونکہ یہ مشکل امر ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 277
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2086 ، ومصباح الزجاجة : 114 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/277 ، 282 ) ، سنن الدارمی/الطہارة 2 ( 681 ) ( صحیح ) » ( سند میں سالم بن ابی الجعد اور ثوبان رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے ، لیکن دارمی اور ابن حبان میں سند متصل ہے ، ملاحظہ ہو : الإرواء : 412 )
حدیث نمبر: 278
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا ، وَاعْلَمُوا أَنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةَ ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” راہ استقامت پر قائم رہو ، تم ساری نیکیوں کا احاطہٰ نہیں کر سکتے ، اور جان لو کہ تمہارا سب سے افضل عمل نماز ہے ، اور وضو کی محافظت صرف مومن ہی کرتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 278
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 8923 ، ومصباح الزجاجة : 115 ) ( صحیح ) » ( سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف ہیں ، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : الإرواء : 2/137 )
حدیث نمبر: 279
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ أَسِيدٍ ، عَنْ أَبِي حَفْصٍ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ ، قَالَ : " اسْتَقِيمُوا وَنِعِمَّا إِنْ تَسْتَقيِمُوا ، وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم استقامت پر قائم رہو ، اور کیا ہی بہتر ہے ، اگر تم اس پر قائم رہ سکو ، اور تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نماز ہے ، اور وضو کی محافظت صرف مومن ہی کرتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 279
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إسحاق بن أسيد: فيه ضعف و شيخه أبو حفص الدمشقي: مجهول (تقريب: 342،8057), والحديث السابق (الأصل: 277) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 386
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4933 ، ومصباح الزجاجة : 116 ) ( صحیح ) » ( سند میں ابو حفص دمشقی مجہول ہیں ، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : الإرواء : 2/137 )