حدیث نمبر: 261
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عِمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَحْفَظُ عِلْمًا فَيَكْتُمُهُ ، إِلَّا أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلْجَمًا بِلِجَامٍ مِنَ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص بھی علم دین یاد رکھتے ہوئے اسے چھپائے ، تو اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنا کر لایا جائے گا “ ۔
حدیث نمبر: 261M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ أَيِ الْقَطَّانُ : وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عِمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` عمارہ بن زاذان نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے ۔
وضاحت:
(یہ سند شیخ مشہور بن حسن سلمان کے نسخے میں نہیں ہے، بلکہ یہ شیخ علی حسن عبدالحمید اثری کے نسخے میں صفحہ نمبر (۱۴۷) پر موجود ہے)
حدیث نمبر: 261M
قال أبو الحسن أيضا وحدثنا إبراهيم بن نصر قال: حدثنا أبو نعيم قال: حدثنا عمارة بن زاذان فذكر نحوه .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` عمارہ بن زاذان نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے ۔
وضاحت:
(یہ سند شیخ مشہور بن حسن سلمان کے نسخے میں نہیں ہے، بلکہ یہ شیخ علی حسن عبدالحمید اثری کے نسخے میں صفحہ نمبر (۱۴۷) پر موجود ہے)
حدیث نمبر: 262
حدثنا أبو مروان العثماني محمد بن عثمان حدثنا إبراهيم بن سعد عن الزهري عن عبد الرحمن بن هرمز الأعرج أنه سمع أبا هريرة يقول والله لولا آيتان في كتاب الله تعالى ما حدثت عنه- يعني عن النبي صلى الله عليه وسلم- شيئا أبدا لولا قول الله: {إن الذين يكتمون ما أنزل الله من الكتاب} إلى آخر الآيتين.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں` اللہ کی قسم ! اگر قرآن کریم کی دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی بھی کوئی نہ حدیث بیان کرتا ، اور دو آیتیں یہ ہیں : «إن الذين يكتمون ما أنزل الله من الكتاب» إلى آخر الآيتين ” بیشک جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلہ میں معمولی قیمت لیتے ہیں ، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں ، قیامت کے دن اللہ نہ تو ان سے بات کرے گا اور نہ ہی ان کو معاف کرے گا ، اور ان کو سخت عذاب پہنچے گا ، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے خرید لیا اور عذاب کو مغفرت کے بدلے ، پس وہ کیا ہی صبر کرنے والے ہیں جہنم پر “ ( سورة البقرة : 174-175 ) ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: آیت کا سیاق یہ ہے: «إن الذين يكتمون ما أنزل الله من الكتاب ويشترون به ثمنا قليلا أولئك ما يأكلون في بطونهم إلا النار ولا يكلمهم الله يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم (۱۷۴) أولئك الذين اشتروا الضلالة بالهدى والعذاب بالمغفرة فمآ أصبرهم على النار (۱۷۵)» (سورة البقرة: 174-175)، یہ آیات اگرچہ یہود کے متعلق ہیں، جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی توراۃ میں موجود صفات چھپا لیں، مگر قرآن کے عمومی سیاق کا حکم شریعت کے احکام کو چھپانے والوں کو شامل ہے، علماء کے یہاں مشہور قاعدہ ہے: «العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص السبب» یعنی: ” اصل اعتبار الفاظ کے عموم سے استدلال کا ہے، سبب نزول سے وہ خاص نہیں ہے “۔
حدیث نمبر: 263
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا لَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا فَمَنْ كَتَمَ حَدِيثًا فَقَدْ كَتَمَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اس امت کے خلف ( بعد والے ) اپنے سلف ( پہلے والوں ) کو برا بھلا کہنے لگیں ، تو جس شخص نے اس وقت ایک حدیث بھی چھپائی اس نے اللہ کا نازل کردہ فرمان چھپایا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی وہ «إن الذين يكتمون ما أنزل الله» کی آیت جو اوپر گذری ہے اس کا مستحق ٹھہرا۔
حدیث نمبر: 264
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرَ بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ ، أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس شخص سے دین کے کسی مسئلہ کے متعلق پوچھا گیا ، اور باوجود علم کے اس نے اسے چھپایا ، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی “ ۔
حدیث نمبر: 265
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ حِبَّانَ بْنِ وَاقِدٍ الثَّقَفِيُّ أَبُو إِسْحَاق الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَابٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَتَمَ عِلْمًا مِمَّا يَنْفَعُ اللَّهُ بِهِ فِي أَمْرِ النَّاسِ فِي الدِّينِ ، أَلْجَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنَ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے کوئی ایسا علم چھپایا جس سے اللہ تعالیٰ لوگوں کے دینی امور میں نفع دیتا ہے ، تو اللہ اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائے گا “ ۔
حدیث نمبر: 266
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرَابِيسِيُّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ ، أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص سے دین کا کوئی مسئلہ پوچھا گیا ، اور جاننے کے باوجود اس نے اس کو چھپایا ، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی “ ۔