کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: طالبان علم کی وصیت۔
حدیث نمبر: 247
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ رَاشِدٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدَةَ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَيَأْتِيكُمْ أَقْوَامٌ يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ ، فَقُولُوا لَهُمْ : مَرْحَبًا مَرْحَبًا بِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاقْنُوهُمْ " ، قُلْتُ لِلْحَكَمِ : " مَا اقْنُوهُمْ " ؟ قَالَ : " عَلِّمُوهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب تمہارے پاس کچھ لوگ علم حاصل کرنے آئیں گے ، لہٰذا جب تم ان کو دیکھو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق انہیں «مرحبا» ( خوش آمدید ) کہو ، اور انہیں علم سکھاؤ “ ۔ محمد بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے حکم سے پوچھا کہ «اقنوهم» کے کیا معنی ہیں ، تو انہوں نے کہا : «علموهم» ، یعنی انہیں علم سکھلاؤ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 247
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, ترمذي (2650) وانظر الحديث الآتي (249), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 384
تخریج حدیث «سنن الترمذی/العلم 4 ( 2650 ) ، ( تحفة الأشراف : 4262 ) ( حسن ) » ( سند میں ابوہارون العبدی ضعیف ومتروک راوی ہے ، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 280 )
حدیث نمبر: 248
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى الْحَسَنِ نَعُودُهُ حَتَّى مَلَأْنَا الْبَيْتَ ، فَقَبَضَ رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ نَعُودُهُ حَتَّى مَلَأْنَا الْبَيْتَ ، فَقَبَضَ رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَلَأْنَا الْبَيْتَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ لِجَنْبِهِ ، فَلَمَّا رَآنَا قَبَضَ رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّهُ سَيَأْتِيكُمْ أَقْوَامٌ مِنْ بَعْدِي يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ ، فَرَحِّبُوا بِهِمْ ، وَحَيُّوهُمْ ، وَعَلِّمُوهُمْ " ، قَالَ : فَأَدْرَكْنَا وَاللَّهِ أَقْوَامًا مَا رَحَّبُوا بِنَا ، وَلَا حَيَّوْنَا ، وَلَا عَلَّمُونَا إِلَّا بَعْدَ أَنْ كُنَّا نَذْهَبُ إِلَيْهِمْ فَيَجْفُونَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماعیل ( اسماعیل بن مسلم ) کہتے ہیں کہ` ہم حسن بصری کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے یہاں تک کہ ہم سے گھر بھر گیا ، انہوں نے اپنے پاؤں سمیٹ لیے پھر کہا : ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے یہاں تک کہ ہم سے گھر بھر گیا ، تو انہوں نے اپنے پاؤں سمیٹ لیے ، اور کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، یہاں تک کہ ہم سے گھر بھر گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے ، جب آپ نے ہمیں دیکھا تو اپنے پاؤں سمیٹ لیے پھر فرمایا : ” عنقریب میرے بعد کچھ لوگ طلب علم کے لیے آئیں گے ، تو تم انہیں مرحبا کہنا ، مبارکباد پیش کرنا ، اور انہیں علم دین سکھانا “ ۔ پھر حسن بصری کہتے ہیں : قسم اللہ کی ( طلب علم میں ) ہمارا بہت سے ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا کہ انہوں نے نہ تو ہمیں مرحبا کہا ، نہ ہمیں مبارکباد دی ، اور نہ ہی ہمیں علم دین سکھایا ، اس پر مزید یہ کہ جب ہم ان کے پاس جاتے تو وہ ہمارے ساتھ بری طرح پیش آتے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 248
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: موضوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده موضوع, معلي بن ھلال: كذاب, وقال الحافظ ابن حجر: اتفق النقاد علي تكذيبه (تقريب: 6807), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 384
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12258 ، ومصباح الزجاجة : 100 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/ 414 ) ( موضوع ) » ( اس سند میں المعلی بن ہلال کی کئی لوگوں نے تکذیب کی ہے ، اور اس پر وضع حدیث کا الزام لگایا ہے ، اور اسماعیل بن مسلم ضعیف ہیں ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 3349 )
حدیث نمبر: 249
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : مَرْحَبًا بِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا : " إِنَّ النَّاسَ لَكُمْ تَبَعٌ ، وَإِنَّهُمْ سَيَأْتُونَكُمْ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ يَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ ، فَإِذَا جَاءُوكُمْ فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ خَيْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہارون عبدی کہتے ہیں کہ` جب ہم ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تو وہ فرماتے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق تمہیں خوش آمدید ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” لوگ تمہارے پیچھے ہیں ، اور عنقریب وہ تمہارے پاس زمین کے مختلف گوشوں سے علم دین حاصل کرنے کے لیے آئیں گے ، لہٰذا جب وہ تمہارے پاس آئیں تو تم ان کے ساتھ بھلائی کرنا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 249
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف جدًا, ترمذي(2650) وانظر الحديث السابق (247), أبو هارون العبدي: متروك, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 384
تخریج حدیث «سنن الترمذی/العلم 4 ( 2650 ) ، ( تحفة الأشراف : 4262 ) ( ضعیف ) » ( سند میں ابوہارون العبدی ضعیف راوی ہے )