کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: خوارج کا بیان۔
حدیث نمبر: 167
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّة ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : وَذَكَرَ الْخَوَارِجَ ، فَقَالَ : " فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ ، أَوْ مَثْدَنُ الْيَدِ ، وَلَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِي ، وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبیدہ فرماتے ہیں کہ` علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کا ذکر کیا ، اور ذکر کرتے ہوئے کہا : ان میں ایک آدمی ناقص ہاتھ کا ہے ۱؎ ، اور اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ تم خوشی سے اترانے لگو گے تو میں تمہیں ضرور بتاتا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبان سے ان کے قاتلین کے لیے کس ثواب اور انعام و اکرام کا وعدہ فرمایا ہے ، میں نے کہا : کیا آپ نے یہ بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ کہا : ہاں ، کعبہ کے رب کی قسم ! ( ضرور سنی ہے ) ، اسے تین مرتبہ کہا ۔
وضاحت:
۱؎: راوی کو شک ہے کہ «مخدج اليد أو مودن اليد أو مثدون اليد»  میں سے کون سا لفظ استعمال کیا ہے، جب کہ ان سب کے معنی تقریباً برابر ہیں، یعنی ناقص ہاتھ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 167
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الزکاة 48 ( 1066 ) ، سنن ابی داود/السنة 31 ( 4763 ) ، ( تحفة الأشراف : 10233 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/ 13 ، 65 ، 83 ، 95 ، 113 ، 122 144 145 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 168
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ النَّاسِ ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، فَمَنْ لَقِيَهُمْ فَلْيَقْتُلْهُمْ فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ عِنْدَ اللَّهِ لِمَنْ قَتَلَهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اخیر زمانہ میں کچھ نوعمر ، بیوقوف اور کم عقل لوگ ظہور پذیر ہوں گے ، لوگوں کی سب سے اچھی ( دین کی ) باتوں کو کہیں گے ، قرآن پڑھیں گے ، لیکن ان کے حلق سے نہ اترے گا ، وہ اسلام سے ویسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ، تو جو انہیں پائے قتل کر دے ، اس لیے کہ ان کا قتل قاتل کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک باعث اجر و ثواب ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اخیر زمانہ سے مراد خلافت راشدہ کا آخری زمانہ ہے اس لئے کہ خوارج کا ظہور اسی وقت ہوا، اور نہروان کا واقعہ علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ۳۳ ھ میں ہوا، اس وقت خلافت راشدہ کو اٹھائیس برس گزرے تھے، خلافت کے تیس سال کی مدت مکمل ہونے میں صرف دو سال باقی تھے۔ ۲؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ لوگ نوعمر اور نوجوان ہوں گے، کم عمری کی وجہ سے سوج بوجھ میں پختگی نہ ہوگی، بظاہر وہ اچھی باتیں کریں گے، اور ان کی باتیں موافق شرع معلوم ہوں گی، مگر حقیقت میں خلاف شرع ہوں گی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 168
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الفتن 24 ( 2188 ) ، ( تحفة الأشراف : 9210 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/81 ، 113 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 169
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الْحَرُورِيَّةِ شَيْئًا ؟ ، فَقَالَ : سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ " قَوْمًا يَتَعَبَّدُونَ ، يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ ، وَصَوْمَهُ مَعَ صَوْمِهِمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، أَخَذَ سَهْمَهُ فَنَظَرَ فِي نَصْلِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ، فَنَظَرَ فِي رِصَافِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ، فَنَظَرَ فِي قِدْحِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ، فَنَظَرَ فِي الْقُذَذِ فَتَمَارَى ، هَلْ يَرَى شَيْئًا أَمْ لَا ؟ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسلمہ کہتے ہیں کہ` میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حروریہ ۱؎ ( خوارج ) کے بارے میں کچھ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی قوم کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے جو بڑی عبادت گزار ہو گی ، اس کی نماز کے مقابلہ میں تم میں سے ہر ایک شخص اپنی نماز کو کمتر اور حقیر سمجھے گا ۲؎ ، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے کہ تیر انداز اپنا تیر لے کر اس کا پھل دیکھتا ہے ، تو اسے ( خون وغیرہ ) کچھ بھی نظر نہیں آتا ، پھر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو بھی کچھ نظر نہیں آتا ، پھر اپنے تیر کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو بھی کچھ نظر نہیں آتا ، پھر وہ تیر کے پر کو دیکھتا ہے تو شک میں مبتلا ہوتا ہے کہ آیا اسے کچھ اثر دکھایا نہیں ۔
وضاحت:
۱؎: «حروریہ» : حروراء کی طرف نسبت ہے جو کوفہ کے قریب ایک بستی کا نام ہے اس سے مراد خوارج ہیں، انہیں «حروریہ» اس لئے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسی بستی سے خروج کیا تھا۔ ۲؎: ظاہری عبادت و ریاضت اگر عقیدہ اسلام سے الگ ہو کر کی جا رہی ہے تو وہ بیکار محض ہے، یہ بھی پتہ چلا کہ بدعت کی نحوست سے نماز و روزہ جیسی اہم عبادتیں بھی مقبول نہیں ہوتیں، تیر شکار سے پار نکل جانے میں جس قدر سرعت رکھتا ہے، اہل بدعت خصوصاً خوارج دین سے خارج ہونے میں سریع تر ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 169
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الأنبیاء 6 ( 3344 ) ، المناقب 25 ( 3610 ) ، المغازي 62 ( 4351 ) ، تفسیر التوبہ 10 ( 4667 ) ، فضائل القرآن 36 ( 5058 ) ، الأدب 95 ( 6163 ) ، الاستتابة 7 ( 6933 ) ، التوحید 23 ( 7432 ) ، صحیح مسلم/الزکاة 47 ( 1064 ) ، ( تحفة الأشراف : 4421 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/السنة 31 ( 4764 ) ، سنن النسائی/الزکاة 79 ( 2579 ) ، التحریم 22 ( 4106 ) ، موطا امام مالک/القرآن 4 ( 10 ) ، مسند احمد ( 3/ 56 ، 60 ، 65 ، 68 ، 72 ، 73 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 170
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي ، أَوْ سَيَكُونُ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ ، هُمْ شِرَارُ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَافِعِ بْنِ عَمْرٍو ، أَخِي الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ ، فَقَالَ : وَأَنَا أَيْضًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے بعد میری امت میں سے کچھ لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے ، لیکن وہ ان کی حلق سے نہ اترے گا ، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے ، پھر وہ دین کی طرف واپس لوٹ کر نہ آئیں گے ، انسانوں اور حیوانوں میں بدترین لوگ ہیں “ ۱؎ ۔ عبداللہ بن صامت کہتے ہیں : میں نے اس کا ذکر حکم بن عمرو غفاری کے بھائی رافع بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے کہا : میں نے بھی اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: «خلق» سے مراد لوگ، اور «خلیقۃ» سے چوپائے اور جانور ہیں، اس حدیث سے پتہ چلا کہ اہل بدعت جانوروں سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ خوارج اہل بدعت ہی کا ایک فرقہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 170
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الزکاة 47 ( 1067 ) ، ( تحفة الأشراف : 3596 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/5 ، 5/31 ، 61 ) ، سنن الدارمی/الجہاد 40 ( 2439 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 171
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کے کچھ لوگ قرآن تو ضرور پڑھیں گے ، مگر وہ اسلام سے نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 171
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 6125 ، ومصباح الزجاجة : 64 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/256 ) ( صحیح ) » ( سند میں سماک ضعیف ہیں ، اوران کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے ، لیکن یہ حدیث دوسرے شواہد سے صحیح ہے ، سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 2221 )
حدیث نمبر: 172
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وَهُوَ يَقْسِمُ التِّبْرَ وَالْغَنَائِمَ ، وَهُوَ فِي حِجْرِ بِلَالٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : اعْدِلْ يَا مُحَمَّدُ فَإِنَّكَ لَمْ تَعْدِلْ ، فَقَالَ : " وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ بَعْدِي إِذَا لَمْ أَعْدِلْ " ، فَقَالَ عُمَرُ : دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَضْرِبَ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا فِي أَصْحَابٍ ، أَوْ أُصَيْحَابٍ لَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام جعرانہ میں تشریف فرما تھے ، اور آپ بلال رضی اللہ عنہ کی گود میں سے سونا ، چاندی اور اموال غنیمت ( لوگوں میں ) تقسیم فرما رہے تھے ، تو ایک شخص نے کہا : اے محمد ! عدل و انصاف کیجئیے ، آپ نے عدل سے کام نہیں لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تیرا برا ہو ، اگر میں عدل و انصاف نہ کروں گا تو میرے بعد کون عدل کرے گا ؟ “ ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیجئیے ، میں اس منافق کی گردن اڑا دوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے اور بھی ساتھی ہیں جو قرآن کو پڑھتے ہیں ، لیکن وہ ان کی حلق سے نیچے نہیں اترتا ہے ، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: «جعرانہ» : مکہ سے آٹھ نو میل پر ایک مقام کا نام ہے، جہاں پر نبی اکرم ﷺ نے غزوہ حنین کے غنائم تقسیم کئے تھے، اس وقت جس شخص نے اعتراض کیا تھا وہ ذوالخویصرہ تھا، آپ ﷺ نے ازراہ مصلحت اس کی گردن مارنے کی اجازت نہ دی، ایسا نہ ہو کہ کہیں مشرکین میں یہ مشہور ہو جائے کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کوبھی قتل کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 172
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2772 ، ومصباح الزجاجة : 65 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/فرض الخمس 15 ( 3138 ) ، صحیح مسلم/الزکاة 47 ( 1063 ) ، مسند احمد ( 3/353 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 173
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَوَارِجُ كِلَابُ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خوارج جہنم کے کتے ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 173
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5169 ، ومصباح الزجاجة : 66 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/355 ) ( صحیح ) » ( اعمش کا سماع ابن أبی أوفی سے ثابت نہیں ہے ، اس لئے سند میں انقطاع ہے ، لیکن دوسرے طرق اور شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : المشکاة : 3554 )
حدیث نمبر: 174
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَنْشَأُ نَشْءٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ " أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً ، " حَتَّى يَخْرُجَ فِي عِرَاضِهِمُ الدَّجَّالُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جو قرآن پڑھے گی لیکن قرآن اس کے حلق سے نیچے نہ اترے گا ، جب بھی ان کا کوئی گروہ پیدا ہو گا ختم کر دیا جائے گا “ ، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے بیسیوں بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب بھی ان کا کوئی گروہ نکلے گا ختم کر دیا جائے گا ، یہاں تک کہ انہیں میں سے دجال نکلے گا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ختم کر دیا جائے گا، یعنی اس کا مستحق ہو گا کہ اس کا خاتمہ اور صفایا کر دیا جائے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اہل بدعت ہی سے دجال کا خروج ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 174
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج «تفر د بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 7758 ، ومصباح الزجاجة : 67 ) ( حسن ) »
حدیث نمبر: 175
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ ، أَوْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ أَوْ حُلْقُومَهُمْ ، سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ ، أَوْ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آخری زمانہ ( خلافت راشدہ کے اخیر ) میں یا اس امت میں سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو قرآن پڑھے گی لیکن وہ ان کے نرخرے یا حلق سے نیچے نہ اترے گا ، ان کی نشانی سر منڈانا ہے ، جب تم انہیں دیکھو یا ان سے ملو تو انہیں قتل کر دو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا نشان سر منڈانا ہے، اور اس سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ بال منڈانا مکروہ ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، بعض اوقات سر منڈانا عبادت ہے، جیسا کہ حج اور عمرہ میں، اور پیدائش کے ساتویں روز بچے کا سر منڈانا سنت ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 175
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (4766), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 381
حدیث تخریج «سنن ابی داود/السنة 31 ( 4766 ) ، ( تحفة الأشراف : 1337 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/197 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 176
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، يَقُولُ : " شَرُّ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ ، وَخَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوا كِلَابُ أَهْلِ النَّارِ ، قَدْ كَانَ هَؤُلَاءِ مُسْلِمِينَ فَصَارُوا كُفَّارًا " ، قُلْتُ يَا أَبَا أُمَامَةَ : هَذَا شَيْءٌ تَقُولُهُ ، قَالَ : بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ” یہ خوارج سب سے بدترین مقتول ہیں جو آسمان کے سایہ تلے قتل کیے گئے ، اور سب سے بہتر مقتول وہ ہیں جن کو جہنم کے کتوں ( خوارج ) نے قتل کر دیا ، یہ خوارج مسلمان تھے ، پھر کافر ہو گئے “ ۱؎ ۔ ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ یہ بات خود اپنی جانب سے کہہ رہے ہیں ؟ تو ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں ، بلکہ اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس قتل و غارت گری میں زمانہ جاہلیت کے کفار کی طرح ہوگئے، جب کہ دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: «لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض» اے مسلمانو! میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو ، زمانہ جاہلیت میں عربوں میں قبائلی نظام کے تحت چھوٹے چھوٹے مسائل کے تحت آئے دن آپس میں خونریزی اور قتل و غارت گری کے واقعات پیش آتے تھے، انسانی جان کی کوئی قیمت نہ تھی، اسلام نے انسانی جانوں کا بڑا احترام کیا، اور بلا کسی واقعی سبب کے خونریزی کو بہت بڑا گناہ اور جرم قرار دیا، اب نو مسلم معاشرہ ایک نظم و ضبط میں بندھ گیا تھا، جرائم پر حدود قصاص اور دیت کا ایک مستقل نظام تھا، اس لئے نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو عہد جاہلیت کے غلط طریقے پر اس حدیث میں تنبیہ فرمائی، اور ایسے اسلوب میں خطاب کیا کہ حقیقی معنوں میں لوگ ہنگامہ آرائی اور قتل و غارت گری اور خونریزی سے اپنے آپ کو دور رکھیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آپ ﷺ نے اس طرح تربیت فرمائی تھی کہ دوبارہ وہ عہد جاہلیت کے کاموں سے اپنے آپ کو دور رکھنے میں غایت درجہ کا لحاظ رکھتے تھے، تاکہ ان کے اعمال اکارت اور بے کار نہ جائیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 176
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج «سنن الترمذی/تفسیر القرآن 4 ( 3000 ) ، ( تحفة الأشراف : 4935 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/ 253 ، 256 ) ( حسن صحیح ) »