کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 142
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، نَبَّأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْحَسَنِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ " ، قَالَ : " وَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا : ” اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر ، اور اس سے بھی محبت کر جو اس سے محبت کرے “ ۱؎ ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے سینے سے لگا لیا ۔
وضاحت:
۱؎: حسن رضی اللہ عنہ سے محبت اور دوستی کا تقاضہ یہ ہے کہ ایک مسلمان نبی اکرم ﷺ کی سنت پر جان دے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 142
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج حدیث «صحیح البخاری/البیوع 49 ( 2122 ) ، اللباس 60 ( 5884 ) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 8 ( 2421 ) ، ( تحفة الأشراف : 14634 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/249 ، 331 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 143
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَوْفٍ أَبِي الْحَجَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے حسن و حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ، اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: محبت ان حضرات کی یہی ہے کہ ان کے احترام کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلا جائے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 143
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 13396 ، ومصباح الزجاجة : 54 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/288 ، 440 ، 531 ) ( حسن ) »
حدیث نمبر: 144
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ دُعُوا لَهُ ، فَإِذَا حُسَيْنٌ يَلْعَبُ فِي السِّكَّةِ ، قَالَ : فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَ الْقَوْمِ وَبَسَطَ يَدَيْهِ ، فَجَعَلَ الْغُلَامُ يَفِرُّ هَهُنَا وَهَهُنَا وَيُضَاحِكُهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى أَخَذَهُ فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ ذَقْنِهِ ، وَالْأُخْرَى فِي فَأْسِ رَأْسِهِ فَقَبَّلَهُ ، وَقَالَ : " حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا ، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے کی ایک دعوت میں نکلے ، دیکھا تو حسین رضی اللہ عنہ ) گلی میں کھیل رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے آگے نکل گئے ، اور اپنے دونوں ہاتھ پھیلا لیے ، حسین رضی اللہ عنہ بچے تھے ، ادھر ادھر بھاگنے لگے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ہنسانے لگے ، یہاں تک کہ ان کو پکڑ لیا ، اور اپنا ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا سر پر رکھ کر بوسہ لیا ، اور فرمایا : ” حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ، اللہ اس سے محبت رکھے جو حسین سے محبت رکھے ، اور حسین نواسوں میں سے ایک نواسہ ہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حدیث حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے، نیز کھانے کی دعوت میں جانا، چھوٹے بچوں کا گلی میں کھیلنا، نیز چھوٹے بچوں کو پیار میں ہنسانا مسنون و مستحب ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 144
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11850 ، ومصباح الزجاجة : 55 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/المناقب 31 ( 3775 ) ، مسند احمد ( 4/172 ) ( حسن ) ( تراجع الألباني ، رقم : 375 ) »
حدیث نمبر: 144M
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یہ حدیث علی بن محمد` سے «وکیع عن سفیان» کے واسطے سے بھی اسی طرح مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 144M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث t
حدیث نمبر: 145
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، عَنْ صُبَيْحٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ أَنَا سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین ( رضی اللہ عنہم ) سے فرمایا : ” میں اس شخص کے لیے سراپا صلح ہوں جس سے تم لوگوں نے صلح کی ، اور سراپا جنگ ہوں اس کے لیے جس سے تم لوگوں نے جنگ کی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 145
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (3870), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380
تخریج حدیث «سنن الترمذی/المناقب 61 ( 3870 ) ، ( تحفة الأشراف : 3662 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/442 ) ( ضعیف ) » ( اس سند میں علی بن المنذر میں تشیع ہے ، اسباط بن نصر صددق لیکن کثیر الخطا ٔ ہیں ، اور غرائب بیان کرتے ہیں ، سدی پر تشیع کا الزام ہے ، اور ان کی حدیث میں ضعف ہے ، نیز صبیح لین الحدیث ہیں ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 6028 )