کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 114
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَن عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ لَا يُحِبُّنِي ، إِلَّا مُؤْمِنٌ ، وَلَا يُبْغِضُنِي إِلَّا مُنَافِقٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی امّی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا ، مجھ سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 114
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الإیمان 33 ( 78 ) ، سنن الترمذی/ المنا قب 21 ( 3736 ) ، سنن النسائی/الایمان 19 ( 5021 ) ، ( تحفة الأشراف : 10092 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/84 ، 95 ، 128 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 115
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَال لِعَلِيٍّ : " أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ تم میری طرف سے ایسے ہی رہو جیسے ہارون موسیٰ کی طرف سے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ ایک بڑی حدیث کا ٹکڑا ہے (غزوۂ تبوک کی تفصیلات دیکھئے)، بعض منافقوں نے علی رضی اللہ عنہ کو بزدلی کا طعنہ دیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ تم کو بزدلی کے سبب مدینہ میں چھوڑ گئے، ان کو تکلیف ہوئی، رسول اللہ ﷺ سے شکوہ کیا، تب آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی، یہ روایت بخاری اور مسلم میں بھی ہے، اور اس میں یہ لفظ زیادہ ہے: «إلا أنه لا نبي بعدي»  یعنی اتنی بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، یعنی جیسے ہارون علیہ السلام نبی تھے، اس حدیث سے نبی اکرم ﷺ کے بعد علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر استدلال صحیح نہیں کیونکہ ہارون موسیٰ علیہ السلام کے بعد موسیٰ کے خلیفہ نہیں تھے بلکہ وہ موسیٰ علیہ السلام کی زندگی ہی میں انتقال کر گئے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 115
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج حدیث « صحیح البخاری/المناقب 9 ( 3706 ) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 4 ( 2404 ) ، ( تحفة الأشراف : 3840 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/المناقب 21 ( 3731 ) ، مسند احمد ( 1/170 ، 177 ، 3/32 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 116
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ ، أَخْبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ ، فَنَزَلَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَمَرَ الصَّلَاةَ جَامِعَةً ، فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " أَلَسْتُ أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " فَهَذَا وَلِيُّ مَنْ أَنَا مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، اللَّهُمَّ عَادِ مَنْ عَادَاهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر آئے ، آپ نے راستے میں ایک جگہ نزول فرمایا اور عرض کیا : «الصلاة جامعة» ، یعنی سب کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا ، پھر علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : ” کیا میں مومنوں کی جانوں کا مومنوں سے زیادہ حقدار نہیں ہوں ؟ “ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : کیوں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں ہر مومن کا اس کی جان سے زیادہ حقدار نہیں ہوں ؟ “ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : کیوں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ( علی ) دوست ہیں اس کے جس کا میں دوست ہوں ، اے اللہ ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ ، جو علی سے عداوت رکھے تو اس سے عداوت رکھ “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حدیث نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع سے لوٹتے وقت غدیرخم میں بیان فرمائی، یہ مکہ اور مدینہ کے بیچ جحفہ میں ایک مقام کا نام ہے، اس حدیث سے علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلافصل پر استدلال درست نہیں: ۱۔ کیونکہ اس کے لئے شیعہ مذہب میں حدیث متواتر چاہیے، اور یہ متواتر نہیں ہے ۲۔ ولی اور مولیٰ مشترک المعنی لفظ ہیں، اس لئے کوئی خاص معنی متعین ہو یہ ممنوع ہے، ۳۔ امام معہود و معلوم کے لئے مولیٰ کا اطلاق اہل زبان کے یہاں مسلم نہیں، ۴۔ خلفاء ثلاثہ (ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم) کی تقدیم اجماعی مسئلہ ہے، اور اس اجماع میں خود علی رضی اللہ عنہ شامل ہیں، ۵۔ اگر اس سے خلافت بلافصل مراد ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہرگز اس سے عدول نہ کرتے، وہ اہل زبان اور منشاء نبوی کو ہم سے بہتر جاننے والے تھے، ۶۔ اس حدیث میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے محبت کی جائے اور ان کے بغض سے اجتناب کیا جائے، اور یہ اہل سنت و الجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بالخصوص امہات المومنین اور آل رسول سے محبت کی جائے، اور ان سے بغض و عداوت کا معاملہ نہ رکھا جائے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 116
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, علي بن زيد بن جدعان: ضعيف وأصل الحديث ((من كنت مولاه فعلي مولاه)) صحيح متواتر, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 1797 ، ومصباح الزجاجة : 48 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/281 ) ( صحیح ) » ( لیکن یہ سند ضعیف ہے ، اس میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں ، اور عدی بن ثابت ثقہ ہیں ، لیکن تشیع سے مطعون ہیں ، لیکن اصل حدیث شواہد کی وجہ صحیح ہے ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 1750 )
حدیث نمبر: 117
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : كَانَ أَبُو لَيْلَى يَسْمُرُ مَعَ عَلِيٍّ ، فَكَانَ يَلْبَسُ ثِيَابَ الصَّيْفِ فِي الشِّتَاءِ ، وَثِيَابَ الشِّتَاءِ فِي الصَّيْفِ ، فَقُلْنَا : لَوْ سَأَلْتَهُ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيَّ وَأَنَا أَرْمَدُ الْعَيْنِ يَوْمَ خَيْبَرَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرْمَدُ الْعَيْنِ ، فَتَفَلَ فِي عَيْنِي ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ " ، قَالَ : فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا بَعْدَ يَوْمِئِذٍ ، وَقَالَ : " لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، لَيْسَ بِفَرَّارٍ فَتَشَوَّفَ لَهَا النَّاسُ " ، فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں :` ابولیلیٰ رات میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے ، اور علی رضی اللہ عنہ گرمی کے کپڑے جاڑے میں اور جاڑے کے کپڑے گرمی میں پہنا کرتے تھے ، ہم نے ابولیلیٰ سے کہا : کاش آپ ان سے اس کا سبب پوچھتے تو بہتر ہوتا ، پوچھنے پر علی رضی اللہ عنہ نے ( جواباً ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غزوہ خیبر کے موقع پر اپنے پاس بلا بھیجا ، اس وقت میری آنکھ دکھ رہی تھی ، اور ( حاضر خدمت ہو کر ) میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری آنکھیں آئی ہوئی ہیں ، میں مبتلا ہوں ، آپ نے میری آنکھوں میں لعاب دہن لگایا ، پھر دعا فرمائی : ” اے اللہ اس سے سردی اور گرمی کو دور رکھ “ ۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس دن کے بعد سے آج تک میں نے سردی اور گرمی کو محسوس ہی نہیں کیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ایسے آدمی کو ( جہاد کا قائد بنا کر ) بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ، اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں ، اور وہ میدان جنگ سے بھاگنے والا نہیں ہے “ ۔ لوگ ایسے شخص کو دیکھنے کے لیے گردنیں اونچی کرنے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا ، اور جنگ کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں دے دیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱ ؎: غزوہ خیبر ۷ ھ میں ہوا، اور خیبر مدینہ سے شمال میں شام کی طرف واقع ہے، یہ حدیث بھی مؤید ہے کہ اوپر والی حدیث میں مولیٰ سے دوستی اور محبت مراد ہے، اس میں بھی آپ ﷺ نے محبت کی تصریح فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 117
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, محمد بن أبي ليلي: ضعيف وضعفه الجمھور كما قال البوصيري (854), ولحديثه شواھد ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10213 ، ومصباح الزجاجة : 49 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/99 ، 133 ) ( حسن ) » ( اس کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ شدید سيء الحفظ ہیں ، لیکن حدیث طبرانی میں موجود شواہد کی بناء پر حسن ہے ، بعض ٹکڑے صحیحین میں بھی ہیں ، ملاحظہ ہو : ا لا ٔوسط للطبرانی : 1/127/1 ، 222/2 )
حدیث نمبر: 118
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ، اور ان کے والد ان سے بہتر ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 118
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 8434 ، ومصباح الزجاجة : 50 ) ( صحیح ) » ( اس کی سند میں معلی بن عبدالرحمن ضعیف اور ذاھب الحدیث ہیں ، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے ، جیسا کہ ترمذی اور نسائی نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 797 )
حدیث نمبر: 119
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا عَلِيٌّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” علی مجھ سے ہیں ، اور میں ان سے ہوں ، اور میری طرف سے اس پیغام کو سوائے علی کے کوئی اور پہنچا نہیں سکتا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: رسول اللہ ﷺ نے یہ الفاظ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے بطور عذر، اور علی رضی اللہ عنہ کی تکریم کے لئے اس وقت فرمائے جب ابوبکر رضی اللہ عنہ امیر حج تھے، اور سورۃ براءت میں مشرکین سے کئے گئے معاہدہ کے توڑنے کے اعلان کی ضرورت پڑی، چونکہ دستور عرب کے مطابق سردار یا سردار کا قریبی رشتہ دار ہی یہ اعلان کر سکتا تھا، لہذا علی رضی اللہ عنہ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی، رضی اللہ عنہم۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 119
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « سنن الترمذی/المنا قب 21 ( 3719 ) ، ( تحفة الأشراف : 3290 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/164 ، 165 ) ( حسن ) » ( تراجع الا ٔلبانی ، رقم : 378 ، وسلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 1980 ، وظلال الجنة : 1189 )
حدیث نمبر: 120
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ ، قَالَ عَلِيٌّ : " أَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ لا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلا كَذَّابٌ ، صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ بِسَبْعِ سِنِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عباد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ` علی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھائی ہوں ، اور میں صدیق اکبر ہوں ، میرے بعد اس فضیلت کا دعویٰ جھوٹا شخص ہی کرے گا ، میں نے سب لوگوں سے سات برس پہلے نماز پڑھی ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 120
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: باطل , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, عباد بن عبد اللّٰه: ضعيف (تقريب: 3136), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10157 ، ومصباح الزجاجة : 51 ) ( باطل ) » ( سند میں عباد بن عبداللہ ضعیف اور متروک ر1وی ہے ، اور اس کے بارے میں امام بخاری نے فرمایا : «فيه نظر» اور وہی حدیث کے بطلان کا سبب ہے ، امام ذہبی نے فرمایا : یہ حدیث علی رضی اللہ عنہ پر جھوٹ ہے ، ملاحظہ ہو : الموضوعات لابن الجوزی : 1/341 ، وتلخیص المستدرک للذہبی ، وتنزیہ الشریعة : 1/386 ، وشیخ الاسلام ابن تیمیہ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ : 310 ، للدکتور عبد الرحمن الفریوائی )
حدیث نمبر: 121
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : قَدِمَ مُعَاوِيَةُ فِي بَعْضِ حَجَّاتِهِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدٌ فَذَكَرُوا عَلِيًّا فَنَالَ مِنْهُ ، فَغَضِبَ سَعْدٌ ، وَقَالَ : تَقُولُ هَذَا لِرَجُلٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي " ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ایک سفر حج میں آئے تو سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس ملنے آئے ، لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کو نامناسب الفاظ سے یاد کیا ، اس پر سعد رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور بولے : آپ ایسا اس شخص کی شان میں کہتے ہیں جس کے بارے میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جس کا مولیٰ میں ہوں ، علی اس کے مولیٰ ہیں “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ بھی سنا : ” تم ( یعنی علی ) میرے لیے ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے ، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں “ ، نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” آج میں لڑائی کا جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 121
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبد الرحمٰن بن سابط لم يسمع من سعد رضي اللّٰه عنه (انظر تحفة التحصيل ص 197), و حديث البخاري (3706،4416) و مسلم (2404) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3901 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/فضائل الصحابة 9 ( 3706 ) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 4 ( 2404 ) ، سنن الترمذی/المناقب 21 ( 3724 ) ، مسند احمد ( 1/84 ، 118 ) ( صحیح ) »