کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: سلام کو عام کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5193
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا ، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا ، أَفَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ ، أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے : تم جنت میں نہ جاؤ گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ ، اور تم ( کامل ) مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ رکھنے لگو ۔ کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرنے لگو گے تو تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو : آپس میں سلام کو عام کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب السلام / حدیث: 5193
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (54)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12381)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان 22 (54)، سنن الترمذی/الاستئذان 1 (2689)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 9 (68)، مسند احمد (1/165، 2/391) (صحیح) »
حدیث نمبر: 5194
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، " أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : تُطْعِمُ الطَّعَامَ ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اسلام کا کون سا طریقہ بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” کھانا کھلانا اور ہر ایک کو سلام کرنا ، تم چاہے اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب السلام / حدیث: 5194
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (28) صحيح مسلم (39)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الإیمان 6 (12)،20 (28)، والاستئذان 9 (6236)، صحیح مسلم/الإیمان 14 (39)، سنن النسائی/الإیمان 12 (5003)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 1 (3253)، (تحفة الأشراف: 8927)، وقد أخرجہ: حم(2/169) (صحیح) »