کتب حدیث ›
سنن ابي داود › ابواب
› باب: آدمی کو بلایا جائے تو کیا بلایا جانا اس کے لیے گھر میں داخل ہونے کی اجازت ہے؟
حدیث نمبر: 5189
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَبِيبٍ , وَهِشَامٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "رَسُولُ الرَّجُلِ إِلَى الرَّجُلِ إِذْنُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی آدمی کو بلا بھیجنا ، ہی اس کی جانب سے اس کے لیے اجازت ہے “ ۔
حدیث نمبر: 5190
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ فَجَاءَ مَعَ الرَّسُولِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَهُ إِذْنٌ " , قال أَبُو عَلِيٍّ الْلُّؤْلُئِيُّ : سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ يَقُولُ : قَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي رَافِعٍ شَيْئًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی آدمی کھانے کے لیے بلایا جائے اور وہ بلانے والا آنے والے کے ساتھ ہی آ جائے تو یہ اس کے لیے اجازت ہے “ ( پھر اسے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ) ۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں : میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا : کہ قتادہ نے ابورافع سے کچھ نہیں سنا ہے ۔