کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ أَوْ مَشَاقِصَ ، قَالَ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتِلُهُ لِيَطْعَنَهُ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ایک کمرے سے جھانکا تو آپ تیر کا ایک یا کئی پھل لے کر اس کی طرف بڑھے ، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کی آپ اس کی طرف اس طرح بڑھ رہے ہیں کہ وہ جان نہ پائے تاکہ اسے گھونپ دیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5171
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6242) صحيح مسلم (2157), َدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ:
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الاستئذان 11 (6242)، الدیات 15 (6900)،23 (6925)، صحیح مسلم/الآداب 9 (2157)، سنن النسائی/القسامة 40 (4863)، (تحفة الأشراف: 1078)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الاستئذان 17 (2708)، مسند احمد (3 /108، 140، 239، 242) (صحیح) »
حدیث نمبر: 5172
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنِ اطَّلَعَ فِي دَارِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ ، فَقَدْ هَدَرَتْ عَيْنُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو کسی قوم کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے اور وہ لوگ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کی آنکھ رائیگاں گئی ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اسے کوئی تاوان یا بدل نہیں دینا پڑے گا۔ بعضوں نے کہا ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب اس نے اسے روکا ہو اور وہ نہ رکا ہو اور بعض علماء نے کہاہے کہ تاوان دینا پڑے گا کیونکہ کسی کے گھر میں جھانکنا اس میں بلا اجازت داخل ہونے سے بڑا گناہ نہیں اور بلا اجازت داخل ہونے سے جب آنکھ نہیں پھوڑی جا سکتی تو صرف جھانکنے سے بدرجہ اولیٰ نہیں پھوڑی جا سکتی ان لوگوں نے حدیث کو «مبالغة في الزجر» پر محمول کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5172
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2158)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الآداب 9 (2563)، سنن النسائی/القسامة 41 (4864)، (تحفة الأشراف: 12628)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/266، 414، 527) (صحیح) »
حدیث نمبر: 5173
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ كَثِيرٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دَخَلَ الْبَصَرُ فَلَا إِذْنَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب نگاہ اندر پہنچ گئی تو پھر اجازت کا کوئی مطلب ہی نہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5173
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, أخرجه أحمد (2/366) كثير بن زيد والوليد بن رباح كلاھما حسن الحديث
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 14808)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/366) (ضعیف) » (اس کے راوی کثیر بن زید ضعیف ہیں)
حدیث نمبر: 5174
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ هُزَيْلٍ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ ، قَالَ عُثْمَانُ : سَعْدٌ ، فَوَقَفَ عَلَى بَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ ، قَالَ عُثْمَانُ : مُسْتَقْبِلَ الْبَابِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَكَذَا عَنْكَ أَوْ هَكَذَا فَإِنَّمَا الِاسْتِئْذَانُ مِنَ النَّظَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہزیل کہتے ہیں کہ` ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، ( عثمان کی روایت میں ہے کہ وہ سعد بن ابی وقاص تھے ) تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر اجازت طلب کرنے کے لیے رکے اور دروازے پر یا دروازے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تمہیں اس طرح کھڑا ہونا چاہیئے یا اس طرح ؟ ( یعنی دروازہ سے ہٹ کر ) کیونکہ اجازت کا مقصود نظر ہی کی اجازت ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5174
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الأعمش مدلس وعنعن, وفي الرواية الثالثة : الرجل ھو ھزيل بن شرحبيل والحديث السابق (الأصل : 5173) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3946) (صحیح) »
حدیث نمبر: 5175
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ سَعْدٍ نَحْوَهُ ، عَنِ النَّبِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد رضی اللہ عنہ نے` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5175
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الأعمش مدلس وعنعن, وفي الرواية الثالثة : الرجل ھو ھزيل بن شرحبيل والحديث السابق (الأصل : 5173) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3946) (صحیح) »