حدیث نمبر: 5151
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ ، حَتَّى قُلْتُ لَيُوَرِّثَنَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جبرائیل مجھے برابر پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین اور وصیت کرتے رہے ، یہاں تک کہ میں ( دل میں ) کہنے لگا کہ وہ ضرور اسے وارث بنا دیں گے “ ۔
حدیث نمبر: 5152
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيل ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو " أَنَّهُ ذَبَحَ شَاةً ، فَقَالَ : أَهْدَيْتُمْ لِجَارِي الْيَهُودِيِّ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` انہوں نے ایک بکری ذبح کی تو ( گھر والوں ) سے کہا : کیا تم لوگوں نے میرے یہودی پڑوسی کو ہدیہ بھیجا ( نہ بھیجا ہو تو بھیج دو ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے : ” جبرائیل مجھے برابر پڑوسی ، کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرماتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان گزرا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے “ ۔
حدیث نمبر: 5153
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو جَارَهُ ، فَقَالَ : اذْهَبْ فَاصْبِرْ , فَأَتَاهُ مَرَّتَيْنِ ، أَوْ ثَلَاثًا ، فَقَالَ : اذْهَبْ فَاطْرَحْ مَتَاعَكَ فِي الطَّرِيقِ , فَطَرَحَ مَتَاعَهُ فِي الطَّرِيقِ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ فَيُخْبِرُهُمْ خَبَرَهُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْعَنُونَهُ فَعَلَ اللَّهُ بِهِ وَفَعَلَ وَفَعَلَ فَجَاءَ إِلَيْهِ جَارُهُ ، فَقَالَ لَهُ : ارْجِعْ لَا تَرَى مِنِّي شَيْئًا تَكْرَهُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اپنے پڑوسی کی شکایت کر رہا تھا ، آپ نے فرمایا : ” جاؤ صبر کرو “ پھر وہ آپ کے پاس دوسری یا تیسری دفعہ آیا ، تو آپ نے فرمایا : ” جاؤ اپنا سامان نکال کر راستے میں ڈھیر کر دو “ تو اس نے اپنا سامان نکال کر راستہ میں ڈال دیا ، لوگ اس سے وجہ پوچھنے لگے اور وہ پڑوسی کے متعلق لوگوں کو بتانے لگا ، لوگ ( سن کر ) اس پر لعنت کرنے اور اسے بد دعا دینے لگے کہ اللہ اس کے ساتھ ایسا کرے ، ایسا کرے ، اس پر اس کا پڑوسی آیا اور کہنے لگا : اب آپ ( گھر میں ) واپس آ جائے آئندہ مجھ سے کوئی ایسی بات نہ دیکھیں گے جو آپ کو ناپسند ہو ۔
حدیث نمبر: 5154
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ اور یوم آخرت ( قیامت ) پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔ اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے ، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اچھی بات کہے یا چپ رہے “ ۔
حدیث نمبر: 5155
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ , وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي جَارَيْنِ بِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ ؟ قَالَ : بِأَدْنَاهُمَا بَابًا " , قَالَ أَبُو دَاوُدَ : قَالَ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : طَلْحَةُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے دو پڑوسی ہیں ، میں ان دونوں میں سے پہلے کس کے ساتھ احسان کروں ؟ آپ نے فرمایا : ” ان دونوں میں سے جس کا دروازہ قریب ہو اس کے ساتھ “ ۔