حدیث نمبر: 5137
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ ، فَيُعْتِقَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیٹا اپنے والد کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا سوائے اس کے کہ وہ اسے غلام پائے پھر اسے خرید کر آزاد کر دے “ ۔
حدیث نمبر: 5138
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَالِي الْحَارِثُ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ ، وَكُنْتُ أُحِبُّهَا ، وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا ، فَقَالَ لِي : طَلِّقْهَا ، فَأَبَيْتُ ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : طَلِّقْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میرے نکاح میں ایک عورت تھی میں اس سے محبت کرتا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ کو وہ ناپسند تھی ، انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم اسے طلاق دے دو ، لیکن میں نے انکار کیا ، تو عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اسے طلاق دے دو “ ۔
حدیث نمبر: 5139
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَبَرُّ ؟ قَالَ : أُمَّكَ ، ثُمَّ أُمَّكَ ، ثُمَّ أُمَّكَ ، ثُمَّ أَبَاكَ ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَسْأَلُ رَجُلٌ مَوْلَاهُ مِنْ فَضْلٍ هُوَ عِنْدَهُ ، فَيَمْنَعُهُ إِيَّاهُ إِلَّا دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَضْلُهُ الَّذِي مَنَعَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ " , قَالَ أَبُو دَاوُدَ : الْأَقْرَعُ : الَّذِي ذَهَبَ شَعْرُ رَأْسِهِ مِنَ السُّمِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں ؟ آپ نے فرمایا : ” اپنی ماں کے ساتھ ، پھر اپنی ماں کے ساتھ ، پھر اپنی ماں کے ساتھ ، پھر اپنے باپ کے ساتھ ، پھر جو قریبی رشتہ دار ہوں ان کے ساتھ ، پھر جو اس کے بعد قریب ہوں “ ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنے غلام سے وہ مال مانگے ، جو اس کی حاجت سے زیادہ ہو اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اس کا وہ فاضل مال جس کے دینے سے اس نے انکار کیا ایک گنجے سانپ کی صورت میں اس کے سامنے لایا جائے گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «أقرع» سے وہ سانپ مراد ہے جس کے سر کے بال زہر کی تیزی کے سبب جھڑ گئے ہوں ۔
حدیث نمبر: 5140
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ ، حَدَّثَنَا كُلَيْبُ بْنُ مَنْفَعَةَ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَبَرُّ ؟ قَالَ : أُمَّكَ ، وَأَبَاكَ ، وَأُخْتَكَ ، وَأَخَاكَ ، وَمَوْلَاكَ الَّذِي يَلِي ، ذَاكَ حَقٌّ وَاجِبٌ ، وَرَحِمٌ مَوْصُولَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بکر بن حارث ( کلیب کے دادا ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں ؟ آپ نے فرمایا : ” اپنی ماں ، اور اپنے باپ ، اور اپنی بہن اور اپنے بھائی کے ساتھ ، اور ان کے بعد اپنے غلام کے ساتھ ، یہ ایک واجب حق ہے ، اور ایک جوڑنے والی ( رحم ) قرابت داری ہے “ ۔
حدیث نمبر: 5141
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا . ح وحَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ : أَنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ , قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ ؟ قَالَ : يَلْعَنُ أَبَا الرَّجُلِ ، فَيَلْعَنُ أَبَاهُ ، وَيَلْعَنُ أُمَّهُ ، فَيَلْعَنُ أُمَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( بڑے گناہوں ) میں سے ایک بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت بھیجے “ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! آدمی اپنے والدین پر کیسے لعنت بھیج سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک شخص کسی شخص کے باپ پر لعنت بھیجتا ہے ، تو وہ شخص ( جواب میں ) اس کے باپ پر لعنت بھیجتا ہے ، یا ایک شخص کسی شخص کی ماں پر لعنت بھیجتا ہے تو وہ اس کے جواب میں اس کی ماں پر لعنت بھیجتا ہے “ ( اس طرح وہ گویا خود ہی اپنے ماں باپ پر لعنت بھیجتا ہے ) ۔
حدیث نمبر: 5142
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ , وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ الْمَعْنَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ مَوْلَى بَنِي سَاعِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا ، وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا ، وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا ، وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا ، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابواسید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران بنو سلمہ کا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ کے مر جانے کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ہے ، ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا ، ان کے بعد ان کی وصیت و اقرار کو نافذ کرنا ، جو رشتے انہیں کی وجہ سے جڑتے ہیں ، انہیں جوڑے رکھنا ، ان کے دوستوں کی خاطر مدارات کرنا ( ان حسن سلوک کی یہ مختلف صورتیں ہیں ) ۔
حدیث نمبر: 5143
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْمَرْءِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے انتقال کے بعد ان کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے “ ۔
حدیث نمبر: 5144
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لَحْمًا بِالْجِعِرَّانَةِ ، قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ : وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ أَحْمِلُ عَظْمَ الْجَزُورِ ، إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ حَتَّى دَنَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَسَطَ لَهَا رِدَاءَهُ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : مَنْ هِيَ ؟ فَقَالُوا : هَذِهِ أُمُّهُ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جعرانہ میں گوشت تقسیم کرتے دیکھا ، ان دنوں میں لڑکا تھا ، اور اونٹ کی ہڈیاں ڈھو رہا تھا ، کہ اتنے میں ایک عورت آئی ، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو گئی ، آپ نے اس کے لیے اپنی چادر بچھا دی ، جس پر وہ بیٹھ گئی ، ابوطفیل کہتے ہیں : میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ تو لوگوں نے کہا : یہ آپ کی رضاعی ماں ہیں ، جنہوں نے آپ کو دودھ پلایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5145
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ السَّائِبِ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ جَالِسًا ، فَأَقْبَلَ أَبُوهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَوَضَعَ لَهُ بَعْضَ ثَوْبِهِ فَقَعَدَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ أُمُّهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَوَضَعَ لَهَا شِقَّ ثَوْبِهِ مِنْ جَانِبِهِ الْآخَرِ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ أَخُوهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَقَامَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن سائب کا بیان ہے کہ` انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ ( ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ اتنے میں آپ کے رضاعی باپ آئے ، آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا ایک کونہ بچھا دیا ، وہ اس پر بیٹھ گئے ، پھر آپ کی رضاعی ماں آئیں آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا دوسرا کنارہ بچھا دیا ، وہ اس پر بیٹھ گئیں ، پھر آپ کے رضاعی بھائی آئے تو آپ کھڑے ہو گئے اور انہیں اپنے سامنے بٹھایا ۔