حدیث نمبر: 5117
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " مَنْ نَصَرَ قَوْمَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ ، فَهُوَ كَالْبَعِيرِ الَّذِي رُدِّيَ فَهُوَ يُنْزَعُ بِذَنَبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جس نے اپنی قوم کی ناحق مدد کی تو اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کنوئیں میں گرا دیا گیا ہو اور پھر دم پکڑ کر نکالا جا رہا ہو ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: تو جس طرح دم پکڑ کر اونٹ کا نکالنا ممکن نہیں ہے ایسے ہی متعصب شخص کا جہنم سے نکلنا بھی ناممکن ہو گا۔
حدیث نمبر: 5118
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا آپ چمڑے کے ایک خیمے میں تھے ، آگے راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ۔
حدیث نمبر: 5119
حَدَّثَنَا مُحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ بِشْرٍ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ بِنْتِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا ، يَقُولُ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " مَا الْعَصَبِيَّةُ ؟ , قَالَ : أَنْ تُعِينَ قَوْمَكَ عَلَى الظُّلْمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے پوچھا : اللہ کے رسول : عصبیت کیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عصبیت یہ ہے کہ تم اپنی قوم کا ظلم و زیادتی میں ساتھ دو ، اور ان کی مدد کرو “ ۔
حدیث نمبر: 5120
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيِّ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " خَيْرُكُمُ الْمُدَافِعُ عَنْ عَشِيرَتِهِ مَا لَمْ يَأْثَمْ " , قَالَ أَبُو دَاوُدَ : أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ضَعِيفٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا تو کہا : ” تم میں بہتر وہ شخص ہے ، جو اپنے خاندان کا دفاع کرے ، جب تک کہ وہ ( اس دفاع سے ) کسی گناہ کا ارتکاب نہ کر رہا ہو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ایوب بن سوید ضعیف ہیں ۔
حدیث نمبر: 5121
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيِّ يَعْنِي ابْنَ أَبِي لَبِيبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلَى عَصَبِيَّةٍ ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں جو کسی عصبیت کی طرف بلائے ، وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی بنیاد پر لڑائی لڑے ، اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو تعصب کا تصور لیے ہوئے مرے “ ۔
حدیث نمبر: 5122
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَنْ أَبِي كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قوم کی بہن کا لڑکا یعنی بھانجا اسی قوم کا ایک فرد ہے “ ۔
حدیث نمبر: 5123
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي عُقْبَةَ وَكَانَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ فَارِسَ , قَالَ : " شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحُدًا ، فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَقُلْتُ : خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِيُّ ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : فَهَلَّا قُلْتَ خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِيُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوعقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے` وہ فارس کے رہنے والے اور عرب کے غلام تھے ، وہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ احد میں شریک تھا میں نے ایک مشرک شخص کو مارا اور بول اٹھا : یہ لے میرا وار ، میں ایک فارسی جوان ہوں ۱؎ ( میری آواز سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے ، آپ نے فرمایا : ” ایسا کیوں نہ کہا ؟ یہ لے میرا وار ، میں انصاری جوان ہوں ۲؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ جملہ انہوں نے اظہار شجاعت کے لئے کہا۔
۲؎: کیونکہ قوم کا مولیٰ (آزاد کردہ غلام) اسی قوم ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔
۲؎: کیونکہ قوم کا مولیٰ (آزاد کردہ غلام) اسی قوم ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔