کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جب آندھی آئے تو کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 5097
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ , وَسَلَمَةُ يَعْنِيَ ابْنَ شَبِيبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ ، قَالَ سَلَمَةُ : فَرَوْحُ اللَّهِ تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ ، وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا ، فَلَا تَسُبُّوهَا وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا ، وَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : «ریح» ( ہوا ) اللہ کی رحمت میں سے ہے ( سلمہ کی روایت میں «من روح الله‏‏» ہے ) ، کبھی وہ رحمت لے کر آتی ہے ، اور کبھی عذاب لے کر آتی ہے ، تو جب تم اسے دیکھو تو اسے برا مت کہو ، اللہ سے اس کی بھلائی مانگو ، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہو ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5097
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (1516), أخرجه ابن ماجه (3727 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الأدب 29 (3727)، (تحفة الأشراف: 12231)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/250، 267، 409، 436، 518) (صحیح) »
حدیث نمبر: 5098
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ وَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ ، وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عُرِفَتْ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةُ ، فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ، مَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ ، وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ ، فَقَالُوا : هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کے کوے کو دیکھ سکوں ، آپ تو صرف تبسم فرماتے ( ہلکا سا مسکراتے ) تھے ، آپ جب بدلی یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ کے چہرے پر دیکھا جاتا ( آپ تردد اور تشویش میں مبتلا ہو جاتے ) تو ( ایک بار ) میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگ تو جب بدلی دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہو گی ، اور آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ جب بدلی دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے سے ناگواری ( گھبراہٹ اور پریشانی ) جھلکتی ہے ( اس کی وجہ کیا ہے ؟ ) آپ نے فرمایا : ” اے عائشہ ! مجھے یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو ، کیونکہ ایک قوم ( قوم عاد ) ہوا کے عذاب سے دو چار ہو چکی ہے ، اور ایک قوم نے ( بدلی کا ) عذاب دیکھا ، تو وہ کہنے لگی «هذا عارض ممطرنا» ۱؎ : یہ بادل تو ہم پر برسے گا ( وہ برسا تو لیکن ، بارش پتھروں کی ہوئی ، سب ہلاک کر دیے گئے ) ۔
وضاحت:
۱؎: قوم ثمود کی طرف اشارہ ہے، مدائن صالح (سعودی عرب) میں اس قوم کے آثار موجود ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5098
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4828) صحيح مسلم (899)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/بدء الخلق 5 (3206)، تفسیر سورة الأحقاف (4829)، الأدب 68 (6093)، صحیح مسلم/الاستسقاء 3 (899)، (تحفة الأشراف: 16136)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن 46 (4828)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 21 (6092)، مسند احمد (6/190) (صحیح) »
حدیث نمبر: 5099
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا فِي أُفُقِ السَّمَاءِ تَرَكَ الْعَمَلَ وَإِنْ كَانَ فِي صَلَاةٍ ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا ، فَإِنْ مُطِرَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان کے گوشے سے بدلی اٹھتے دیکھتے تو کام ( دھام ) سب چھوڑ دیتے یہاں تک کہ نماز میں ہوتے تو اسے بھی چھوڑ دیتے ، اور یوں دعا فرماتے : «اللهم إني أعوذ بك من شرها» ” اے اللہ ! میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں “ پھر اگر بارش ہونے لگتی ، تو آپ فرماتے : «اللهم صيبا هنيئا» ” اے اللہ ! اس بارش کو زوردار اور خوشگوار و بابرکت بنا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5099
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (1520), أخرجه النسائي (1524 وسنده صحيح) وابن ماجه (3889 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الدعاء 21 (3889)، (تحفة الأشراف: 16146)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الاستسقاء 15 (1522) (صحیح) »