مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: چھینکنے والا «الحمد الله» نہ کہے تو اس کا جواب دینا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 5039
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَتَرَكَ الْآخَرَ ، قَالَ : فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلَانِ عَطَسَا فَشَمَّتَّ أَحَدَهُمَا ، قَالَ أَحْمَدُ : أَوْ فَسَمَّتَّ أَحَدَهُمَا وَتَرَكْتَ الْآخَرَ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ ، وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` دو لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھینک آئی تو آپ نے ان میں سے ایک کی چھینک کا جواب دیا اور دوسرے کو نہ دیا ، تو آپ سے پوچھا گیا : اللہ کے رسول ! دو لوگوں کو چھینک آئی ، تو آپ نے ان میں سے ایک کو جواب دیا ؟ ۔ احمد کی روایت میں اس طرح ہے : کیا آپ نے ان دونوں میں سے ایک کو جواب دیا ، دوسرے کو نہیں دیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : دراصل اس نے «الحمد الله» کہا تھا اور اس نے «الحمد الله» نہیں کہا تھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 5039
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6221) صحيح مسلم (2991)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الأدب 123(6221)، صحیح مسلم/الزہد 9 (2991)، سنن الترمذی/الأدب 4 (2742)، سنن ابن ماجہ/الأدب 20 (3713)، (تحفة الأشراف: 872)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/100، 117، 176) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔