حدیث نمبر: 4745
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُسَدَّدٌ ، قَالَا : أخبرنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا ، مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے سامنے ( قیامت کے دن ) ایک حوض ہو گا ، جس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا «جرباء» اور «اذرح» ۱؎ کے درمیان ہے ۲؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: «جرباء» اور «اذرح» نام ہیں شام میں دو گاؤں کے ان کے درمیان تین دن کی مسافت کا فاصلہ ہے۔
۲؎: حوض کے حدود کے بارے میں مختلف بیانات وارد ہیں، ان سے تحدید مقصود نہیں بلکہ مسافت کا طول مراد ہے۔
۲؎: حوض کے حدود کے بارے میں مختلف بیانات وارد ہیں، ان سے تحدید مقصود نہیں بلکہ مسافت کا طول مراد ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4745
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2299), وأصله عند البخاري (6577)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الفضائل 9 (2299)، (تحفة الأشراف: 7538)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق 53 (6577)، مسند احمد (2/21، 6/125) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4746
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا ، فَقَالَ : " مَا أَنْتُمْ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ " ، قَالَ : قُلْتُ : كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : سَبْعُ مِائَةٍ ، أَوْ ثَمَانِ مِائَةٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو آپ نے فرمایا : ” تم لوگ ان لوگوں کے ایک لاکھ حصوں میں کا ایک حصہ بھی نہیں ہو جو لوگ حشر میں حوض کوثر پر آئیں گے “ ۔ راوی ( ابوحمزہ ) کہتے ہیں : میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا : اس دن آپ لوگ کتنے تھے ؟ کہا : سات سویا آٹھ سو ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4746
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (5593),
حدیث تخریج « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3666)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/367، 369، 371) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4747
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، أخبرنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " أَغْفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِغْفَاءَةً ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا ، فَإِمَّا قَالَ لَهُمْ ، وَإِمَّا قَالُوا لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ ضَحِكْتَ ؟ فَقَالَ : إِنَّهُ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ ، فَقَرَأَ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ حَتَّى خَتَمَهَا ، فَلَمَّا قَرَأَهَا ، قَالَ : هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ ؟ , قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ ، وَعَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ ، عَلَيْهِ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، آنِيَتُهُ عَدَدُ الْكَوَاكِبِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ` میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا : ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہلکی اونگھ طاری ہوئی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا ، تو یا تو آپ نے لوگوں سے کہا ، یا لوگوں نے آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! آپ کو ہنسی کیوں آئی ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابھی میرے اوپر ایک سورت نازل ہوئی “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا : «بسم الله الرحمن الرحيم إنا أعطيناك الكوثر» یہاں تک کہ سورت ختم کر لی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا : ” کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا وعدہ مجھ سے میرے رب نے کیا ہے اور اس پر بڑا خیر ہے ، اس پر ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت ( پینے ) آئے گی ، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہوں گے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4747
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (400), مشكوة المصابيح (5929), وانظر الحديث السابق (784)
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم (784)، (تحفة الأشراف: 1575) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4748
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ ، أخبرنا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : أخبرنا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " لَمَّا عُرِجَ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَّةِ ، أَوْ كَمَا قَالَ : عُرِضَ لَهُ نَهْرٌ حَافَتَاهُ الْيَاقُوتُ الْمُجَيَّبُ ، أَوْ قَالَ : الْمُجَوَّفُ ، فَضَرَبَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعَهُ يَدَهُ ، فَاسْتَخْرَجَ مِسْكًا ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَلَكِ الَّذِي مَعَهُ : مَا هَذَا ؟ , قَالَ : الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` جب اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج میں جنت میں لے جایا گیا تو آپ کے سامنے ایک نہر لائی گئی ، جس کے دونوں کنارے «مجیّب» یا کہا «مجوّف» ( خول دار ) یاقوت کے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو فرشتہ تھا اس نے اپنا ہاتھ مارا اور اندر سے مشک نکالی ، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والے فرشتے سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : یہی کوثر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4748
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4964),
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1234)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق 53 (6581)، التوحید 37 (7516) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4749
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أخبرنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ أَبُو طَالُوتَ ، قَالَ : شَهِدْتُ أَبَا بَرْزَةَ دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ، فَحَدَّثَنِي فُلَانٌ ، سَمَّاهُ مُسْلِمٌ ، وَكَانَ فِي السِّمَاطِ ، فَلَمَّا رَآهُ عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّ مُحَمَّدِيَّكُمْ هَذَا الدَّحْدَاحُ ، فَفَهِمَهَا الشَّيْخُ ، فَقَالَ : مَا كُنْتُ أَحْسَبُ أَنِّي أَبْقَى فِي قَوْمٍ يُعَيِّرُونِي بِصُحْبَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ : إِنَّ صُحْبَةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَ زَيْنٌ ، غَيْرُ شَيْنٍ ، قَالَ : إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِأَسْأَلَكَ عَنِ الْحَوْضِ ، سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِيهِ شَيْئًا ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَرْزَةَ : نَعَمْ ، لَا مَرَّةً ، وَلَا ثِنْتَيْنِ ، وَلَا ثَلَاثًا ، وَلَا أَرْبَعًا ، وَلَا خَمْسًا ، فَمَنْ كَذَّبَ بِهِ ، فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْهُ ، ثُمَّ خَرَجَ مُغْضَبًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالسلام بن ابی حازم ابوطالوت بیان کرتے ہیں کہ` میں نے ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ عبیداللہ بن زیاد کے ہاں گئے ، پھر مجھ سے فلاں شخص نے بیان کیا جو ان کی جماعت میں شریک تھا ، ( مسلم نے اس کا نام ذکر کیا ہے ) جب انہیں عبیداللہ نے دیکھا تو بولا : دیکھو تمہارا یہ محمدی موٹا ٹھگنا ہے ، تو شیخ ( ابوبرزہ ) اس کے اس طعنہ اور توہین کو سمجھ گئے اور بولے : مجھے یہ گمان نہ تھا کہ میں ایسے لوگوں میں باقی رہ جاؤں گا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا مجھے طعنہ دیں گے ، تو عبیداللہ نے ان سے کہا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت تو آپ کے لیے فخر کی بات ہے ، نہ کہ عیب کی ، پھر کہنے لگا : میں نے آپ کو اس لیے بلایا ہے کہ میں آپ سے حوض کوثر کے بارے میں معلوم کروں ، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ ذکر فرماتے سنا ہے ؟ تو ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں ایک بار نہیں ، دو بار نہیں ، تین بار نہیں ، چار بار نہیں ، پانچ بار نہیں ( یعنی بہت بار سنا ہے ) تو جو شخص اسے جھٹلائے اللہ اسے اس حوض میں سے نہ پلائے ، پھر غصے میں وہ نکل کر چلے گئے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4749
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, أخرجه أحمد (4/421) وللحديث شواھد عند أحمد (4/419، 425، 426),
حدیث تخریج « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11600)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/419، 421، 424، 426) (صحیح) »