کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4668
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نبیوں کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس کے یہ معنی نہیں کہ انبیاء فضیلت میں برابر ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اپنی طرف سے ایسا مت کرو، یا مطلب یہ ہے کہ ایک کو دوسرے پر ایسی فضیلت نہ دو کہ دوسرے کی تنقیص لازم آئے، یا یہ ہے کہ نفس نبوت میں سب برابر ہیں، خصائص اور فضائل میں ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں،جیسا کہ اللہ نے فرمایا: «تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض» ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4668
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2412) صحيح مسلم (2374)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الخصومات 4 (2412)، الأنبیاء 25 (3398)، الدیات 32 (6917)، صحیح مسلم/الفضائل (2374)، (تحفة الأشراف: 4405)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/31، 33، 40) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4669
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ : إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی بندے کے لیے درست نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس میں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ کوئی شخص اپنے کو یونس علیہ السلام سے افضل کہے، کیونکہ غیر نبی کبھی کسی بھی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا، یا یہ کہ یونس علیہ السلام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فضیلت دے اس صورت میں آپ کا یہ فرمانا بطور تواضع ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4669
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (3413) صحيح مسلم (2377)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الأنبیاء 24 (3395)، وتفسیر القرآن 4 (4630)، صحیح مسلم/الفضائل 43 (2377)، (تحفة الأشراف: 5421)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/242، 254، 342، 348) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4670
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَقُولَ : إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” کسی نبی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4670
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, محمد بن إسحاق مدلس وعنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164
حدیث تخریج « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5226)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/205) (صحیح لغیرہ) » (اس میں محمد بن اسحاق صدوق ہیں ، لیکن سابقہ شاہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے)
حدیث نمبر: 4671
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى ، فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى ، فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ فِي جَانِبِ الْعَرْشِ ، فَلَا أَدْرِي أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي ، أَوْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَحَدِيثُ ابْنِ يَحْيَى أَتَمُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` یہود کے ایک شخص نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو چن لیا ، یہ سن کر مسلمان نے یہودی کے چہرہ پر طمانچہ رسید کر دیا ، یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا : ” مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو ، ( پہلا صور پھونکنے سے ) سب لوگ بیہوش ہو جائیں گے تو سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا ، اس وقت موسیٰ علیہ السلام عرش کا ایک کنارا مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں گے ، تو مجھے نہیں معلوم کہ آیا وہ ان لوگوں میں سے تھے جو بیہوش ہو گئے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے ، یا ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے بیہوش ہونے سے محفوظ رکھا ۱؎ “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن یحییٰ کی حدیث زیادہ کامل ہے ۔
وضاحت:
۱؎: چونکہ اس یہودی نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام عالم سے افضل قرار دیا تھا اس لئے مسلمان نے اُسے طمانچہ رسید کر دیا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز سے منع کیا وہ انبیاء کرام علیہم السلام کو ایک دوسرے پر حمیت و عصبیت کی بنا پر فضیلت دینا ہے، ورنہ اس میں شک نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں، آپ نے موسیٰ علیہ السلام کے بے ہوش نہ ہونے وغیرہ کی بات صرف اس لئے فرمائی کہ ہر نبی کو اللہ نے کچھ خصوصیات عنایت فرمائی ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر دوسرے انبیاء کی کسر شان درست نہیں، ہمارے لئے سارے انبیاء علیہ السلام قابل احترام ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4671
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2411) صحيح مسلم (2377)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الخصومات 1 (2412)، الأنبیاء 32 (2398)، التفسیر 4 (4638)، والرقاق 43 (6517)، التوحید 31 (7472)، صحیح مسلم/الفضائل 42 (2373)، (تحفة الأشراف: 13956)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن 40 (3245)، مسند احمد (2/264) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4672
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، يَذْكُرُ عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ ، فَقَالَ 0 رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا : اے مخلوق میں سے سب سے بہتر ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ شان تو ابراہیم علیہ السلام کی ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: ممکن ہے خیرالبریۃ ابراہیم علیہ السلام کا لقب ہو، وہ اپنے زمانہ کے سب سے بہتر تھے، آپ نے ازراہ انکسار ایسا فرمایا ورنہ آپ یقینا خیرالبریۃ ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4672
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2369)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الفضائل 41 (2369)، سنن الترمذی/تفسیر البینة 86 (3352)، (تحفة الأشراف: 1574)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/178، 184) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4673
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اولاد آدم کا سردار ہوں ، اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جو اپنی قبر سے باہر آئے گا ، سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں اور میری ہی سفارش سب سے پہلے قبول ہو گی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4673
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2278)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/ الفضائل 2 (2278)، (تحفة الأشراف: 13586)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/195، 281) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4674
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ ، وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ الْمَعْنَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَدْرِي أَتُبَّعٌ لَعِينٌ هُوَ أَمْ لَا ؟ وَمَا أَدْرِي أَعُزَيْرٌ نَبِيٌّ هُوَ أَمْ لَا ؟ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے نہیں معلوم کہ تبع قابل ملامت ہے یا نہیں ، اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ عزیر نبی ہیں یا نہیں ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: تبع کے بارے میں یہ فرمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس وقت کا ہے جب آپ کو اس کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا، بعد میں آپ کو بتا دیا گیا کہ وہ ایک مرد صالح تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4674
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13033) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4675
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ،قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ ، الْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” میں ابن مریم سے لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ہوں ، انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں ، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، علاتی بھائی وہ ہوتے ہیں جن کی مائیں مختلف ہوں اور باپ ایک ہو، انبیاء کی شریعتیں مختلف اور دین ایک تھا،یا یہ مراد ہے کہ زمانے مختلف ہیں اور دین ایک ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4675
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (3442) صحيح مسلم (2365)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الفضائل 40 (2365)، (تحفة الأشراف: 15324)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 48 (3442)، مسند احمد (2/482، 541) (صحیح) »