حدیث نمبر: 4541
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ : ثَلَاثُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ ، وَثَلَاثُونَ بِنْتَ لَبُونٍ ، وَثَلَاثُونَ حِقَّةً ، وَعَشَرَةُ بَنِي لَبُونٍ ذَكَرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا : ” جو غلطی سے مارا گیا تو اس کی دیت سو اونٹ ہے تیس بنت مخاض ۱؎ تیس بنت لبون ۲؎ تیس حقے ۳؎ اور دس نر اونٹ جو دو برس کے ہو چکے ہوں “ ۔
وضاحت:
۱؎: ایسی اونٹنی جو ایک برس کی ہو چکی ہو۔
۲؎: ایسی اونٹنی جو دو برس کی ہو چکی ہو۔
۳؎: ایسی اونٹنی جو تین برس کی ہو چکی ہو۔
۲؎: ایسی اونٹنی جو دو برس کی ہو چکی ہو۔
۳؎: ایسی اونٹنی جو تین برس کی ہو چکی ہو۔
حدیث نمبر: 4542
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " كَانَتْ قِيمَةُ الدِّيَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ ثَمَانِيَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ ، وَدِيَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ يَوْمَئِذٍ النِّصْفُ مِنْ دِيَةِ الْمُسْلِمِينَ ، قَالَ : فَكَانَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَامَ خَطِيبًا ، فَقَالَ : أَلَا إِنَّ الْإِبِلَ قَدْ غَلَتْ ، قَالَ : فَفَرَضَهَا عُمَرُ عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ ، وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا ، وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ ، وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَيْ شَاةٍ ، وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَيْ حُلَّةٍ ، قَالَ : وَتَرَكَ دِيَةَ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرْفَعْهَا فِيمَا رَفَعَ مِنَ الدِّيَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیت کی قیمت ۱؎ آٹھ سو دینار ، یا آٹھ ہزار درہم تھی ، اور اہل کتاب کی دیت اس وقت مسلمانوں کی دیت کی آدھی تھی ، پھر اسی طرح حکم چلتا رہا ، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا ، اور فرمایا : سنو ، اونٹوں کی قیمت بڑھ گئی ہے ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے سونے والوں پر ایک ہزار دینار ، اور چاندی والوں پر بارہ ہزار ( درہم ) دیت ٹھہرائی ، اور گائے بیل والوں پر دو سو گائیں ، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں ، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑوں کی دیت مقرر کی ، اور ذمیوں کی دیت چھوڑ دی ، ان کی دیت میں ( مسلمانوں کی دیت کی طرح ) اضافہ نہیں کیا ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی دیت کے اونٹوں کی قیمت۔
حدیث نمبر: 4543
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الدِّيَةِ عَلَى أَهْلِ الْإِبِلِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ، وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ ، وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَيْ شَاةٍ ، وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَيْ حُلَّةٍ ، وَعَلَى أَهْلِ الْقَمْحِ شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ مُحَمَّدٌ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطا بن ابی رباح سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کے سلسلے میں فیصلہ فرمایا کہ اونٹ والوں پر سو اونٹ ، گائے بیل والوں پر دو سو گائیں ، بکری والوں پر دو ہزار بکریاں ، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑے کپڑے ، اور گیہوں والوں پر بھی کچھ مقرر کیا جو محمد ( محمد بن اسحاق ) کو یاد نہیں رہا ۔
حدیث نمبر: 4544
قَالَ أَبُو دَاوُد : قَرَأْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَ : ذَكَرَ عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ مُوسَى ، وَقَالَ : وَعَلَى أَهْلِ الطَّعَامِ شَيْئًا لَا أَحْفَظُهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا پھر راوی نے ایسے ہی ذکر کیا جیسے موسیٰ کی روایت میں ہے البتہ اس میں اس طرح ہے کہ طَعام والوں پر کچھ مقرر کیا جو کہ مجھ کو یاد نہیں رہا ۔
حدیث نمبر: 4545
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فِي دِيَةِ الْخَطَإِ عِشْرُونَ حِقَّةً ، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً ، وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ ، وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ ، وَعِشْرُونَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُرٍ ، وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قتل خطا کی دیت میں بیس حقے ، بیس جزعے ، بیس بنت مخاض ، بیس بنت لبون اور بیس ابن مخاض ہیں “ اور یہی عبداللہ بن مسعود کا قول ہے ۔
حدیث نمبر: 4546
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَدِيٍّ قُتِلَ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَتَهُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` بنی عدی کے ایک شخص کو قتل کر دیا گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار ٹھہرائی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن عیینہ نے عمرو سے ، عمرو نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے ۔