کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: لوگوں کے درمیان ان دیکھے تیر سے مارے گئے شخص کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 4539
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهَذَا حَدِيثُهُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : مَنْ قُتِلَ ؟ وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا فِي رَمْيٍ يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحِجَارَةٍ أَوْ بِالسِّيَاطِ أَوْ ضَرْبٍ بِعَصًا فَهُوَ خَطَأٌ وَعَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَإِ ، وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ ، قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ : قَوَدُ يَدٍ ثُمَّ اتَّفَقَا ، وَمَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " ، وَحَدِيثُ سُفْيَانَ أَتَمُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طاؤس کہتے ہیں کہ` جو مارا جائے ، اور ابن عبید کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی کسی لڑائی یا دنگے میں جو لوگوں میں چھڑ گئی ہو غیر معروف پتھر ، کوڑے ، یا لاٹھی سے مارا جائے ۱؎ تو وہ قتل خطا ہے ، اور اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہو گی ، اور جو قصداً مارا جائے تو اس میں قصاص ہے “ ( البتہ ابن عبید کی روایت میں ہے کہ ) اس میں ہاتھ کا قصاص ہے ، ۲؎ ( پھر دونوں کی روایت ایک ہے کہ ) جو کوئی اس کے بیچ بچاؤ میں پڑے ۳؎ تو اس پر اللہ کی لعنت ، اور اس کا غضب ہو ، اس کی نہ توبہ قبول ہو گی اور نہ فدیہ ، یا اس کے فرض قبول ہوں گے نہ نفل اور سفیان کی حدیث زیادہ کامل ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس کے قاتل کا پتہ نہ چل سکے۔
۲؎: یعنی جان کا قصاص ہے جان کی تعبیر ہاتھ سے کی گئی ہے۔
۳؎: یعنی قصاص نہ لینے دے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4539
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (3478), انظر الحديث الآتي (4540)
تخریج حدیث « سنن النسائی/القسامة 26 (4793)، سنن ابن ماجہ/الدیات 8 (2635)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (4591)، (تحفة الأشراف: 5739 18828) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4540
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، آگے راوی نے سفیان کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4540
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه النسائي (4793 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5739، 18828) (صحیح) »